اسلام آباد:سینیٹر رحمان ملک کا صدارتی آرڈیننس پر اظہار خیال

اسلام آباد:(نمائندہ باغی ٹی وی)سابق وزیر داخلہ و پیپلز پارٹی سینیر رہنماء سینیٹر رحمان ملک کا صدارتی آرڈیننس کے حوالے سے پارلیمنٹ کے باہر اظہار خیالپاکستان کی سیاست میں بہت سے چیلنجز ہیںسب سے بڑا چیلنج ہارس ٹریڈنگ کا روک تھام ہےہارس ٹریدنگ اب نہیں پاکستانی سیاست میں شروع سے چلی آرہی ہےہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنے کےلئے حکومت کے پاس کافی وقت تھاحکومت اجلت میں قانون سازی کی بجائے صدارتی آرڈیننس کیطرف گیاآئین پاکستان میں سینیٹ الیکشن کے متعلق واضح شک موجود ہےآئین پاکستان میں واضح ہے کہ سینیٹ ووٹنگ حفیہ ہوکس قانون کے تحت صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیاصدارتی آرڈیننس سینیٹ الیکشن سے متعلق آئینی شق کے خلاف ہےاگر کل صدر چاہے کہ وزارت عظمی کی مدت پانج سال ہو تو کیا وہ آرڈیننس جاری کرینگےکیا ہر اسطرح کا آئین کے خلاف آرڈیننس قابل قبول ہوگا؟ آئین کیخلاف کوئی آرڈیننس جاری نہیں کیا جا سکتاہےجب سینیٹ الیکشن کے متعلق قومی اسمبلی میں بل موجود تھا تو صدارتی آرڈیننس کی کیا ضرورت پڑیبل قومی اسمبلی اور سینیٹ کمیٹیوں سے ہوکر پاس ہوا ہےاسی دوران جب بل قومی اسمبلی میں ہے حکومت نے صدارتی آرڈیننس جاری کیالگتا ہے کہ حکومت کو اپنے اراکین اسمبلیوں پر بھروسہ نہیں ہےاسطرح کے آرڈیننس اگر رد نہ ہوئے تو ایک روایت بن جائیگی،

تفصلات کہ مطابق سینیٹ کے صبح کے اجلاس میں اراکین نے مرحوم ساتھی مشاہد اللہ خان کو بھرپور خراج تحسین پیش کیسینیٹر مشاہداللہ خان ہمیشہ پارٹی کے وفادار رہےسینیٹر مشاہداللہ خان ہر مشکل گھڑی میں پر پارٹی کیساتھ کھڑے رہےاسکے پارٹی کو سراہاتا ہوں کہ انھوں نے مشاہداللہ خان کیساتھ نبھایامشاہداللہ خان کے بعد انکے بیٹے کو سینیٹ کا ٹکٹ دیاوفاداری اہم چیز ہے کہ جمہوریت، آئین اور پارٹی کیساتھ نبھائی جائےآج اگر ہم اپنے آئین کیساتھ وفاداری کا مظاہرہ نہیں کرینگے تو جمہوریت کمزور ہوگاعوام کا پارلیمنٹ اور منتخب نمائیندوں سے اعتماد اٹھ جائیگا،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.