fbpx

‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

انسان نے یقینا ہردورمیں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پرنظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظرآتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دیئے اورگردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب وہ اجتماعی طورپرفطرت کے خلاف چلیں، جب وہ قانون قدرت کوتوڑکراس کی نافرمان و گستاخ بنی اورخدا کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا ۔ بنی نوع انسان کو انفرادی بدعملی کی سزا دنیا میں نہیں ملتی اس کا حساب کتاب آخرت میں ہے مگر جب قومیں اجتماعی طورپربدعمل ہوجائیں تو اس کی سزاء دنیا ہی میں مل جایا کرتی ہے۔ جب قوموں میں بد عملی، بد خلقی، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طورپرگھرکرجاتی ہے تو تباہی وبربادی اس کا مقدربن جاتی ہے اورتاریخ نے ایسے کئی مناظردیکھے بھی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی مختلف قوموں کی تباہی کا ذِکر کیا ہے جن میں اخلاقی خرابیاں اجتماعی طورپرگھرکرگئی تھیں۔

ہم تاریخ کے سبھی ادوار کھنگال کراس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی انسان کی معاشرتی زندگی میں بگاڑغالب رہا اوراصلاح کے بہت کم آثار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی مجموعی بگاڑ کے نتیجہ میں قومیں زوال پذیرہوئیں اوراپنے انجام کو پہنچیں۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ھیں توہم دیکھتے ہیں کہ قدرت قوموں کے عروج وزوال اور تباہی و بربادی کے قوانین کے اطلاق میں قوموں کے درمیان فرق نہیں کرتی، جو قوانین یہود و نصاریٰ کیلئے ہیں وہی امتِ مسلمہ کیلئے ہیں، جو اصول اہل باطل کیلئے ہیں وہی اہل حق کیلئے ہیں، جو ضابطے اہل کفر کیلئے ہیں وہی اہل ایمان کیلئے ہیں۔

اس وقت ملت اسلامیہ کئی بڑے بڑے فتنوں اورصدموں میں گھری ہے۔ ہربڑا فتنہ چاہے وہ ملکی سطح پرہو یا عالمی سطح پر، سقوطِ بغداد ہو یا سقوطِ اندلس یا خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہویا مسئلہ فلسطین اورکشمیرکا، مشرقی تیمورہو یاچیچنیا، بوسینیا، کوسوؤ، سرب اوربرمی مسلمانوں کی نسل کشی ہو یا افغانستان وعراق، شام، لیبیا کی مسماری یا ہندوستان میں اٹھتے مسلم کش فسادات ہوں، یہ سب امتِ مسلمہ کی جدید معاشرتی، سائینسی اوراخلاقی نظام سے دوری کا نتیجہ ھے۔

یہ سوال بارباراٹھایا جاتا ھے، کیا مسلمان کبھی 21 ویں صدی میں اصلاح اورجدیدیت اختیارکرسکیں گے اوراس میں شامل ہوسکیں گے؟

اس کے باوجود ذیلی متن تقریبا ہمیشہ یہ ہے کہ جدیدیت کے مغربی نمونہ جس نے پروٹسٹنٹ اصلاح کے بعد تیارکیا تھا، جس نے سیکولرازم کو مضبوطی سے قبول کیا تھا اورمذہب کی پسماندگی قابل تقلید ہے. مسلمان کے پاس خود کو اسے اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔سولہویں صدی میں یورپ میں، کلیساؤں نے اکثر مقامی بادشاہوں اورحکمرانوں سے اتحاد کرتے ہوئے کافی دولت اورسیاسی طاقت حاصل کی تھی۔ جدید سائینس کو اپنے راستے میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ لیکن مسلمان اپنی منفرد مذہبی تاریخ کی وجہ سے جدید دنیا کے بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی کوششوں میں اپنے مذہب کو بطوراتحادی دیکھتے رہتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کے علماء نے جدید سائینس کے تقاضوں سے روگردانی کرتے ھوئے جدیدیت کے بیشترایجادات کو اسلام کے منافی قراردے دیا۔ اس وجہ سے تمام امت مسلمہ آج کے جدیدیت میں پیچھے رہ گئے۔

ایک کامیاب معاشرہ لاشعوری طورپرارتقاء کے عمل سے گزرتے ھوئے جدیدیت کو اپنے دامن میں سماتا ھے۔ جب بھی کوئی معاشرہ جمود کا شکارھوا ھے وہ تاریخ کے اوراق سے بھی مٹ جاتا ھے۔ اسلامی معاشرے کو اپنے اندر کے فرسودہ بیڑیوں سے آزاد کرنا ھوگا۔ جنہوں نے اسلام، سائینس، اقتصاد، ثقافت غرضیکہ ھرچیزکو جمود کے دھانے پرلا کھڑا کیا ھے۔ ایک اسلامی معاشرہ تب ھی کامیابی کا ضامن ھو سکتا ھے، جب وہ جدید سائنس کے جدید تقاضوں کو قبول کرتا ھے۔ جب وہ سیاسیات، اقتصادیات اورعمرانیات کو جدید تقاضوں کے ساتھ تسلیم کرتا ھو۔

@azizbuneri58