fbpx

اسلامی قوانین وقت کی اہم ضرورت تحریر: مطاہر مشتاق

ہمارے ملک میں گزشتہ کئی برس سے جہاں ننھی بچیوں اور بچوں سے زیادتی اور ثبوت مٹانے کے لیے قتل وغارت کے واقعات ہو رہے ہیں وہیں درس و تدریس سے وابستہ معزز اور محترم سمجھے جانیوالے شعبہ سے منسلک چند افراد کی گھناؤنی اور مکروہ فعل انجام دیتے ہوئے وڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں،
بطور اسلامی معاشرہ ہم شدید ترین زوال کا شکار ہیں نا ہمیں مذھبی و تدریسی افراد تحفظ کا مکمل احساس دلانے میں سنجیدہ نظر آرہے ہیں نا ہی قانون مکمل تحفظ فراہم کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کر رہا ہے،
شیطانیت کا لبادہ اوڑھے چند درندے اپنے مکروہ فعل کے بعد سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات اور اپنی وڈیوز وائرل ہونے کے بعد عوام اور متاثرہ فرد کی آواز دبانے میں کامیاب ہیں،
وہیں قانون اور وزارتِ انسانی حقوق کے سربراہان سرعام پھانسی جیسی اسلامی سزا کے عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،
قرآن میں اللہ نے امن و امان کو ملحوظ رکھتے ہوئے سخت سزائیں اسی لیے بتائیں کہ معاشرہ میں امن قائم ہو سکے،
مگر حیراننگی ایوانوں میں بیٹھے اُن عوامی نمائندوں پر ہے جو اسلامی قوانین کے نافض العمل ہونے میں رکاوٹ ہیں،
انکو ملک میں بڑھتی ہوئی بے حیائی قتل و غارت کا علم بھی ہے مگر وہ جان بوجھ کر ایسے سخت قوانین کے خلاف ہیں کہ جن سے ظالم کو قرار واقعی سزا ہو سکے،
اور وہ دیگر افراد کے نشانِ عبرت بنے،
سُننے اور پڑھنے میں تو یہی آیا تھا کہ یہ مُلک اسلام کے نام بنا تھا،
اور بانیِ پاکستان جناب محمد علی جناح اسکو مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے،
مگر اس ُملک کی جڑوں کو اشرافیہ،سرداروں،وڈیروں،چوہدریوں،ملاؤں نے دیمک کیطرح ایسے کھوکھلا کیا ہے اور مزید بھی کر رہے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی خواہش شائد اگلے کئی سال مزید بھی بامراد نا ہو پائے،
موجودہ حکومت تاریخ کی پہلی حکومت ہے کہ جس کو کشمیر،پنجاب،بلوچستان،خیبر پختونخواہ(سرحد)اور گلگت بلتستان میں عوام کا اتنا اعتماد حاصل ہوا ہے کہ وہ بیک وقت تمام جگہ پر بھاری اکثریت سے الیکٹ ہوئی ہے،
اس حکومت کے پاس یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ سرعام پھانسی سمیت کالا باغ ڈیم جیسے اہم عوامی مفاد کے معاملات میں مؤثر قانون سازی کرے،
تاکہ ہماری آنیوالی نسلیں امن و سکون سے بھرپور خوشحال پاکستان میں زندگی بسر کرسکیں۔

‎@iamMutahir4