ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدالتی نظام انصاف اور پولیس میں بہت زیادہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جہاں پر ایک ملزم ۔! جی ہاں ایک ملزم جس پر صرف کوئی الزام ہوتا ہے جبکہ وہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا ہوتا ہے مگر اس انسان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انسان اور انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہوتی ہے ۔ جس کو ذلیل رسوا خوار کر کر کے 1 سال سے 20 سال کے بعد بے گناہ لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی وہ جو تذلیل ہوتی ہے جو اس کی عزت کا جنازہ اٹھتا ہے اس کے بعد تو جیسے وہ مر ہی جاتا ہے اور ایک زندہ لاش بن جاتا ہے ۔ پہلے پہل تو پولیس کسی بھی سچے یا جھوٹے الزام میں کسی کو بھی ایک سادہ سی درخواست پر دھر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو درخواست کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے بس کسی کی فرمائش یا پولیس کی اپنی مرضی پر بھی منحصر ہوجاتا ہے اور اس انسان کو حوالات میں بند کردیا جاتا ہے ۔

حوالاتوں میں جو ماحول ہے وہاں جانور بھی رہنا گوارہ نا کریں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے ہر طرف بدبو کا راج کہیں بجلی نہیں ہوتی تو کہیں مچھر جو بھی شریف النفس انسان صرف کسی الزام میں ہی حوالات میں چلا جائے تو ساری زندگی اس حوالات کے گندے ماحول کا خیال اس کے ذہن سے نہیں جاتا ہے۔ پھر اس کے اس کی جو چھترول اور گندی گندی گالیوں سے خدمت کی جاتی ہے وہ بھی اس کے اندر کے انسان اور انسانیت کو مار دیتی ہیں جبکہ قیدیوں کی تربیت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے شائد کاغذوں میں ایسے منصوبے چلتے ہوں مگر عملی طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ تاکہ وہ اس جیل سے باہر نکلنے کے بعد اپنی اصلاح کرتے ہوئے اچھے شہری بن سکیں بلکہ وہاں پر ان کی شناسائی ایسے عادی مجرموں سے ہوجاتی ہے کہ پہلے مجرم نا ہونے یا چھوٹے موٹے ہونے کے بعد بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

اس کے بعد پولیس کا اس کو بے گناہ لکھنے کرنے کے لیے ( بے گناہ ہونے کے باوجود ) اس کو قرضے لے کر یا اپنی جمع پونجی لٹا کر ہی وہ عدالتی لمبے سسٹم سے گزر کر بے گناہ ہو پاتا ہے ۔ پھر اس کو جیل میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں پر بھی اس کو ہر سہولت یا ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے ۔

پھر وکیلوں کی باری آتی ہے تو وہ بھی اس کے مال و دولت پر اپنے دونوں ہاتھ اچھے سے صاف کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں کئی مہینے سال بلکہ زندگی لگ جاتی ہے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ۔

ہم نے اپنے نظام انصاف کو چھوڑ کر انگریزوں کے کالے قانون کو اپنے لیے نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اپنے اسلامی نظام انصاف کو چھوڑ دیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اب اس نظام کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے پولیس سے عدالت وکیل اور ان کے ساتھ وابستہ افراد کا روزگار چل رہا ہے اور سیاستدانوں کی سیاست بھی کامیابی کے ساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

جو حقیقت حال احوال خود ملزم یا الزام علیہ خود جواب دے سکتا ہے وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں کی فیس ادا کرکے وکیل رکھنا ضروری ہے کیوں کیونکہ یہ ہمارا فرسودہ قانون ہے ۔؟

بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کا اس کو پکڑنا پھر کیس بنا کر عدالتوں میں اس مظلوم کا اتنا ذلیل و خوار ہونا کیوں ۔؟

دوسری طرف جس کے ساتھ واقعی کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے اس کو حصول انصاف کے لیے پہلے ایف آئی آر کروانا بہت مشکل ہے جب آیف آئی آر کے موجودہ کیس کی نوعیت کے مطابق وہ تفتیشی افسر کو رشوت نا دے یا کسی سیاسی بااثر شخصیت کا حکم یا اجازت نامہ لے کر نا آئے اس کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ پھر وکیل جج عدالتیں پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں مگر انصاف حاصل کرنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے

بلکہ یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ انصاف خریدنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے کیونکہ جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے تو ایسے گھٹیا نظام انصاف کو آخر کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے ۔؟

آخر کب تک اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو فوری اور سستا انصاف مل پائے گا آخر ستر سالوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نظام کو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے ۔آخر انسانوں کو کب تک ذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا ۔؟
آخر وہ کون ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش و عمل کرے گا اس قوم کو اب بھی کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ موجودہ سیاستدان تو صرف اپنے پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے لیے گرداں نظر آتے ہیں چھوٹے چھوٹے کام کرکے بس عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں مگر اس ملک اور قوم کو آج تک شائد کوئی مسیحا نہیں مل سکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.