ورلڈ ہیڈر ایڈ

اسلام آباد چڑیا گھر وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ماتحت کرنے کا فیصلہ، زرتاج گل وزیر کا زبردست خوشی کا اظہار

وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے کہا ہے کہ میں‌ اسلام آباد ہائی کورٹ‌ کا شکریہ ادا کرتی ہوں‌ کہ جس نے اسلام آباد چڑیا گھر کو میری وزارت کے ماتحت کرنے کا فیصلہ دیا ہے،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ میں اور میری وزارت اس کاز کیلئے کام کر رہی تھی کہ جانوروں‌ اور پرندوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں‌ ہو رہا. کروڑوں‌ کے ٹھیکے کنٹین وغیرہ کے دیے جاتے ہیں لیکن جانوراور پرندے بہت برے حالات میں رہتے ہیں. ہمیں‌ اس سلسلہ میں بہت جنگ لڑنا پڑی، میں‌ نے کیبینٹ میں‌ بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ اسلام آباد چڑیا گھر کی ملکیت میری وزارت کے ماتحت کی جائے اور یہ ہمارا حق بھی ہے.

زرتاج گل وزیر کا اپنے ویڈیو پیغآم میں کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے میری اس بات کا سیریس نوٹس بھی لیا تھا اور انہوں‌ نے کہا تھا کہ فوری اس ایجنڈا کو اوکے کیا جائے. ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس پڑھے لکھے لوگ ہیں جو اس چڑیا گھر کو صحیح‌ معنوں‌ میں چلا بھی اور جانوروں‌ کا اچھے طریقہ سے خیال رکھ سکتے ہیں. ہم دنیا کو بتائیں گے کہ پاکستانی کس قدر زیادہ جانوروں‌ سے محبت کرتے ہیں. میں‌ لوگوں سے بھی کہتی ہوں‌ کہ وہ جانوروں‌کی اونر شپ لیں اور دنیا کو بتائیں کہ پاکستانی جانوروں‌ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں‌ اور ان کے بھی حقوق ہیں. میں اپنی وزارت کے تمام افسران، کمیٹی کے ممبران، اراکین پارلیمنٹ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں‌ کہ میں نے جہاں‌بھی اسلام آباد چڑیا گھر کو اپنی وزارت کے ماتحت کرنے کی بات کی انہوں‌ نے اس ایجنڈے کی حمایت کی.

واضح‌ رہے کہ وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ماتحت لانے کی کوششیں‌شروع کر رکھی تھیں‌اور ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر کی حالت بہت بری ہے ہم اسے واپس وزارت میں لینے جارہے ہیں ،پہلے یہ چڑیا گھر کیڈ کے ماتحت تھا پھر یہ داخلہ کے ماتحت آگیا ،داخلہ کا چڑیا گھر کے ساتھ کیا کام ہے ؟۔ زرتاج گل وزیر نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی چڑیا گھر وائلڈ لائف کے ماتحت آتا ہے۔

آج کے ویڈیو پیغام میں زرتاج گل وزیر نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ‌نے ان کی وزارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے جس پر میں‌ بہت خوش ہوں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.