fbpx

اسرائیل تعلقات پروزیراعظم کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ علامہ طاہر اشرفی کا انکشاف

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے افراتفری پیدا کرنے کے لیے افواہوں کو جنم دیا گیا،

علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اسرائیل تعلقات کی افواہوں سے متعلق انتشار پھیلا ،لندن بیانیے سے ملک کو بچانا ہے ملک میں مایوسی کا ماحول پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ہم مضبوط قوم ہیں اور ہم نے دہشت گردی کو شکست دی،

علامہ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی سفیرنے حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا،فلسطینیوں کی آزادی تک اسرائیل قابل قبول نہیں پاکستان کا اپنا مقام ہے جس کونظر انداز نہیں کیاجاسکتا،اسرائیل تعلقات سے متعلق دباوَ قبول نہیں نہ ہی ہے ،

اسرائیلی وزیراعظم اور محمد بن سلمان نے 5 گھنٹے کیا باتیں کیں؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

علامہ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اسرائیل تعلقات پر کہتے ہیں اللہ کو کیا جواب دیں گے،وزیراعظم کی برکت سے پی ڈی ایم کو فلسطین یادآیا،مسجد اقصیٰ نوازشریف دور میں بند رہا ،اس وقت آواز نہیں اٹھائی گئی،ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے،ہماری خارجہ پالیسی میں بھی کوئی مداخلت نہیں کرسکتا،عرب ممالک سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں،

عمران خان اقتدار چھوڑ دیں گے لیکن یہ کام نہیں کریں گے، علامہ طاہر اشرفی کا بڑا دعویٰ

لندن بیانیہ مسترد، تنقید کرنے والے اقتدار کی بھیک بھی فوج سے ہی مانگ رہے ہیں، علامہ طاہر اشرفی

علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو کہتے ہیں ملک کے استحکام کے لیے آو بیٹھ کر بات کریں ،بلوچستان ہمارا سر، خیبر پختونخوا آنکھیں اورسندھ ہمارا دل ہے ،ابھی اپوزیشن میں اتفاق نہیں کہ کس نے استعفا دینا ہے،جنوری میں مہنگائی کم ہوگی ،اپوزیشن کی طرف سے استعفے آئے تو دیکھا جائے گا

علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اپیل ہے کہ کورونا سے بچاوَ کیلئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ،مدارس کی جانب سے کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے

کوئی حکومتی شخص اسرائیل گیا؟ علامہ طاہر اشرفی کا دبنگ اعلان