fbpx

اسرائیلی وزیر اعظم ابوظہبی پہنچ گئے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ غیر اعلانیہ دورے پر متحدہ عرب امارات کے دورے کے لیے ابوظبی پہنچ گئے ہیں

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ابوظبی کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نھیان سے ملاقات کی ابوظہبی کی صدارت سنبھالنے کے بعد شیخ محمد بن زاید آل نھیان سے اسرائیلی وزیر اعظم کی ابوظبی میں یہ پہلی ملاقات ہے

2020 میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو باقاعدہ طور پر معمول پر لانے کے بعد سے یہ بینیٹ کا ابوظہبی کا دوسرا عوامی دورہ ہے بینیٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی رہنما متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کریں گے اور دونوں مختلف علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے جس میں ایران کے ایجنڈے میں سرفہرست ہونے کا امکان ہے ،مئی 2022 کے آخر میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے تھے جو کہ کسی عرب ریاست کے ساتھ اس کا پہلا بڑا تجارتی معاہدہ ہے اور ایک ایسا اقدام جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانا ہے

سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

قبل ازیں اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لائے جا سکتے ہیں ،اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک لمبا اور انتہائی محتاط عمل ہے تا ہم ایسا ممکن ہے، تعلقات کو معمول پر لایا جا سکتا ہے اگر کسی معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ حیرت انگیز اعلان نہیں ہوگا جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ ہونے والے سابقہ معاہدوں کے وقت ہوا تھا ہ اسرائیل امریکا اور خلیجی ممالک سے مل کر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالہ سے کام کر رہا ہے،ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ابراہیم معاہدے کے بعد یہ اگلا قدم ہے