fbpx

اسرائیل اورعرب امارات کا یمن میں خفیہ ڈرون بیس اسٹیشن بنانےکاانکشاف

لاہور:اسرائیل اورعرب امارات کا یمن میں خفیہ ڈرون بیس اسٹیشن بنانے کا انکشاف،اطلاعات کے مطابق غیرملکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اورعرب امارات یمن کے سرحدی علاقے میں ایک خفیہ ڈرون بیس کیمپ بنا رہے ہیں‌تاکہ خطے کے دیگرممالک پرنظررکھی جاسکے

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ابوظہبی اور تل ابیب کے مابین تعلقات کے نئے باب سے بہت پہلے ہی اماراتی اسرائیلی نگرانی کے ماہرین اور فرموں کے ساتھ کام جاری تھا ۔

اس رپورٹ میں‌انکشاف کیا گیا ہے کہ اگراس خفیہ ڈرون بیس کیمپ کی تعمیر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ تعلقات تو چند ماہ قبل قائم ہوئے لیکن خفیہ ڈرون بیس کیمپ کی تعمیر تو اس سے پہلے ہی جاری تھی

دوسری طرف یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہےکہ اس خفیہ معاہدے کو ویسے تو بہت سے صحافی جانتے تھے لیکن وہ ڈرکے مارے خاموش تھے اوراب بھی یہی خدشہ ہے کہ اگرمزید معلومات یا انکشافات سامنے آئے توان صحافیوں کی زندگیوں‌کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں

بظاہر تو یہی لگ رہا تھا کہ کسی اسرائیلی عہدیدار کے متحدہ عرب امارات کا پہلا دورہ موساد چیف نے "سلامتی کے شعبے میں تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے امور” پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے کیا تھا۔

لیکن اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے چیف کے اس سفر کے فورا بعد ہی انکشاف ہوا کہ ابو ظہبی اور تل ابیب یمن میں مشترکہ نگرانی کے منصوبے میں شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل اورعرب امارات یمن کے جزیرے سوکوترہ پر جاسوس اڈے قائم کرنے کے منصوبے پر خاموشی سے کام کر رہے تھے۔

یہودی اور فرانسیسی زبان بولنے والی کمیونٹی کی سرکاری ویب سائٹ جےفورم کے مطابق "اس طرح کے جاسوس اسٹیشن کا مقصد پورے خطے خاص طور پر باب المندب آبنائے سے جو ہارن آف کے درمیان بحری اڈے تک خفیہ معلومات اکھٹا کرنا تھیں اور ہیں

 

 

ان یہودی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس سائبر انٹیلی جنس کو مانیٹرکرنے کے بہت زیادہ فنون ہیں ۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر انٹلیجنس گھریلو خطرے اور بیرونی خطرے کو بہت جلد بھانپ جاتا ہے ۔

ان یہودی ماہرین کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو معلوم ہے کہ عرب امارات یہ چاہتا ہےکہ وہ اسرائیل کی اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کرخطے پراپنی گرفت کو مضبوط رکھ سکے

ان ذرائع کا یہ دعویٰ ہےکہ عرب امارات ان اپوزیشن گروپوں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر بہت سی غیر ملکی کمپنیوں سمیت اپنے عہدیداروں اور دیگر شہریوں یا سیاسی جماعتوں کی نگرانی کریں۔

ان ماہرین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ عرب امارات اس آڑ میں ایران کی مانیٹرنگ کرنا چاہتا ہے اورایران کا گھیرا تنگ کرنا چاہتا ہے اس لیے یہ معاہدہ کیا گیا ہے

ان ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ عرب امارات جوپورے مشرق وسطی کی ایک مضبوط فوجی طاقت بننا چاہتا ہے اوراس سلسلے میں عرب امارات کوسرحدوں کے اندر موجود حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے اسرائیل کے جاسوسوں کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.