اسرائیل نے مغربی کنارے فلسطینی باشندوں کیلئےگھروں کی تعمیر کا اعلان کرکے حیران کردیا

مقبوضہ بیت المقدس : اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے لیے گھروں کی تعمیر نے ہر کسی کو حیران کردیا ، اسرائیل نےمغربی کنارے آباد یہودی باشندوں اور فلسطینیوں کے لیے نئے گھر تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے کئے گئے اعلان کے مطابق مغربی کنارے آباد یہودیوں کے لیے 6,000 گھر اور فلسطینی باشندوں کے لیے 700 نئے گھر تعمیر کیے جائینگے۔
فلسطینی حکام نے اسرائیل کے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور اسے اسرائیل کی نوآبادیاتی ذہنیت کا عکاس قرار دیا۔

دوسری طرف حکومت اسرائیل نے یہ اعلان امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وُسطیٰ کے لیےخصوصی مندوب جیریڈ کُشنرکے مغربی کنارے کے دورے سے قبل کیا ہے۔کُشنر آئندہ چند دنوں میں مغربی کنارے کا دورہ کرنے والے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے کٹر قوم پرست رہنما بنیا مین نیتن یاہو نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے آباد بستیوں کوضم کرسکتا ہے۔فلسطینی اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کو ایک چال قرار دے رہے ہیں اور نیتن یاہوکی پالیسی کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں.

یہ بھی یاد رہے کہ مغربی کنارے آباد زیادہ تر بستیاں ’’سی ایریا‘‘ میں مرکوز ہیں۔ اوسلو امن معاہدے کے تحت اسرائیل کو ان پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔اسرائیل کے مطابق ’’سی ایریا‘‘ میں 450,000 یہودی آباد کار اورتقریباً 290,000 فلسطینی رہائش پزیر ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.