اسرائیل کی مصری سرحد پر قبضے کی تیاری

اسرائیلی فوج کی کوشش ہے کہ غزہ میں حماس کے مزاحمت کاروں کو کہیں سے بھی کمک نہ مل سکے
0
114
israel

اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضے کی تیاری کرلی،غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے –

باغی ٹی وی : قدس نیٹ ورک کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس سلسلے میں مصر کے حکام کو مطلع کردیا ہے قاہرہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ علاقے سے فوج نکال لے سرحد پر قبضے کے دوران جو کچھ بھی ہوگا اس کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہوگی۔

غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ مصر کو منظور ہو یا نہ ہو، یہ عمل جاری رہے گا اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر نتائج کا وہ خود ذمہ دار ہوگاغزہ پر مکمل قبضے کی کوشش میں اسرائیلی فوج نے اس علاقے سے ملنے والے داخلی و خارجی راستے بند کردیئے ہیں اسرائیلی فوج کی کوشش ہے کہ غزہ میں حماس کے مزاحمت کاروں کو کہیں سے بھی کمک نہ مل سکے۔

یونان نے بحیرہ روم میں 81 تارکین وطن کو بچالیا

دوسری جانب زہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں مزید2 سو فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ صیہونی جارحیت کا نشانہ بن کر غزہ میں موجود 5 اسرائیلی یرغمالی بھی مارے گئے اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کو وسطی غزہ کا علاقہ بھی خالی کرنے کی دھمکی دے دی گئی، وسطی غزہ کے نصائرت کیمپ پر حملے سے 18 فلسطینی شہید جبکہ جبالیہ کیمپ میں مکان پربم سے حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد شہید ہوگئے۔

فلسطینی میڈیا آفس کے مطابق 78 روز سے جاری حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 258 ہوچکی ہے جبکہ 53 ہزار سے زائد زخمی ہیں، شہدا میں 8 ہزار سے زائد بچے اور 6 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں،78 روز کے دوران 310 طبی عملےکے ارکان اور 100 صحافی شہید ہوچکے ہیں جبکہ سول ڈیفنس کے 35 اہلکار بھی جان کی بازی ہارچکے ہیں، غزہ میں بمباری سے جاں بحق اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی تعداد بھی 136 تک جا پہنچی ہے۔

اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

اسرائیل کا حماس کے اہم رہنما حسن الاطرش کو مارنے کا دعویٰ،حسن الاطرش پر حماس کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام ہے ادھر امریکی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے غزہ میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔

خوراک کی قلت سے غزہ میں قحط کا خطرہ تیزی سے بڑھنے لگا ہےصیہونی فوج نےپینے کے پانی کا آخری پلانٹ بھی تباہ کر دیا ہے سلامتی کونسل میں غزہ کیلئے امداد کی قرارداد پر بین الاقوامی فلاحی اداروں نے غزہ میں جنگ بندی ناگزیر قرار دے دیا۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کل ہو جائے گی لیکن اس شرط پر کہ حماس اپنے زیر حراست قیدیوں کو رہا کر دے۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

دوسری جانب حماس کے رہنما اسامہ حمدان نےایک پریس کانفرنس کے دوران ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ روکے جانے تک اسرائیلی قیدیوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی اگر اسرائیل اپنے یرغمالی افراد کو زندہ واپس یچاہتا ہے تو اسے غزہ کی پٹی پر حملہ روکنا ہو گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی حکومت ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں، وہ غزہ کی ریت میں زیادہ سے زیادہ دھنس رہے ہیں۔ ان کی حکومت کا خاتمہ بالکل قریب ہے۔ انہوں نے فلسطینی دھڑوں کو ختم کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں کو بھی کھوکھلے دعوے قرار دے دیا۔

فلسطینی دھڑوں نے اعلان کیا کہ ایک قومی فیصلہ ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے تک قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ حماس کو مختصر جنگ بندی کے بارے میں تحفظات تھے۔ اس نے کم از کم 14دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

شہری کو پارک سے ملنے والا شیشے کا ٹکڑا 4.87 قیراط کا ہیرا نکلا

حماس نے اسرائیلی فوجی مہم کو مزید عارضی طور پر روکنے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ صرف ایک مستقل جنگ بندی پر بات کی جائے گی یہ ایسی جنگ بندی ہو گی جس میں فلسطینی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے قیام پر زور دیا جائے گافلسطینی شہریوں کو مناسب خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی بات کی جائے گی۔

Leave a reply