اگر اسرائیل نے ایران کیخلاف کوئی قدم اٹھایا تو اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے،ایرانی صدر

0
52

تہران: ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف "ادنیٰ سی حرکت” بھی کی تو ایرانی مسلح افواج اسرائیل کے قلب کو نشانہ بنائیں گی۔

باغی ٹی وی : ایرانی میڈیا کے مطابق ملکی فوج کے قومی دن کی تقریب سے خطاب میں صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ہماری مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو مسلح افواج اسرائیل کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گی۔

ایران میں مقیم افغان شہریوں کےساتھ خراب برتاؤ،طالبان نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا

ایرانی صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایرانی پاسداران انقلاب نے عراقی کردستان کے دارالحکومت اربل میں اسرائیل کے زیر استعمال ایک اسٹریٹیجک سائٹ کو درجنوں بلیسٹک میزائلوں سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جبکہ اربل کے گورنر امید خوشنو نے ایرانی پاسداران انقلاب کے اس دعو ے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس بات سے ہی انکار کردیا تھا کہ شہر میں کوئی اسرائیلی سائٹ موجود ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ گزشتہ ماہ ہوا جب اسرائیل کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں مشترکہ دشمنوں پر دباؤ بڑھانے اور حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا تھا اجلاس میں عرب سفارت کاروں کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی شرکت کی تھی۔

اسی طرح اسرائیل نے ایران اور امریکا کے ویانا میں ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق مذاکرات پر شدید تنقید کی تھی اور امریکا سے ایران کے جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا-

ایران نے مزید 24 امریکی آفیشلز پر پابندیاں عائد کردیں

سرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کا ایک "جوہری ریاست” بننا ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ تہران اور بڑی عالمی طاقتیں اس وقت 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں میں ہیں۔

بدھ کے روز اسرائیلی سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کے ل یے مطلوب افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

یروشلم پوسٹ اخبار کے مطابق ایران 60٪ افزوہ یورینیم کی ایک بڑی مقدار حاصل کرنے کے قریب ہو رہا ہے جو ایک بم تیار کرنے کے لیے کافی ہے یہ امر سرخ لکیر ہے جس کو مغربی ممالک نے بات چیت میں رکھا تھا۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق ایرانیوں نے ابھی تک درمیان کے حل کے لیے یورپی ممالک کی کسی تجویز کو قبول نہیں کیا ہے۔ ایرانیوں نے کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے یہ بنیادی شرط رکھی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے خارج کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی ذمے داران نے یورپی مذاکرات کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ عسکری زاویوں کے حوالے سے جاری تحقیقات بند نہیں کرے گی۔

اسرائیل نے ’آئرن بیم‘ میزائل شکن لیزر سسٹم تیار کر لیا

Leave a reply