اسرائیل نے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی،ہسپانوی اخبار کا دعویٰ

اسرائیل نے ماہانہ 12 ہزار ڈالرز کرائے پر کچھ پرائیوٹ فوجیوں کو بھرتی کر لیا ہے
0
179
Hammas

مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیل نے اپنے فوجیوں کی جانیں بچانے کے لیے فرانس سے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی۔

باغی ٹی وی: ہسپانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ کیلئے اسرائیل نے فرانس کے کرائے کے پرائیوٹ فوجی بھرتی کیے ہیں اور غزہ جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ کرائے کے فوجی بھی شامل ہیں، اسرائیل نے ماہانہ 12 ہزار ڈالرز کرائے پر کچھ پرائیوٹ فوجیوں کو بھرتی کر لیا ہے، اسرائیل دیگر ممالک سے بھی پرائیوٹ فوجیوں کو بھرتی کرے گا، اسرائیلی اقدام کا مقصداسرائیلی فوجیوں کو غزہ میں براہ راست تصادم سے بچانا ہے۔

خیال رہے کہ غزہ میں آپریشن کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوگیا اور زمینی آپریشن میں اب تک 29 فوجی افسر اور اہلکار مارے گئے ہیں جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک مارے جانے والے اسرائیلیوں فوجیوں کی تعداد 346 ہوگئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے …

دوسری جانب غزہ میں 31 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے،فلسطینی وزارت صحت کیجانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 252 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 22 ہوگئی ہے، شہید افراد میں 4104 بچے اور 2641 خواتین بھی شامل ہیں،اس عرصے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 25 ہزار 408 فلسطینی زخمی ہوئے۔

امریکہ نے جوہری میزائل آبدوز تعینات کر دی

خیال رہے کہ 31 روز سے جاری اس جنگ کے باعث غزہ کے 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہوچکے ہیں اسی طرح مغربی کنارے میں 7 اکتوبر سے اب تک 140 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 192 طبی ورکرز شہید جبکہ 32 ایمبولینسیں تباہ ہوچکی ہیں اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ کے 16 اسپتال بند ہو چکے ہیں جبکہ بیکریوں کو نشانہ بنائے جانے سے خوراک کا بحران بڑھ گیا ہے،اسرائیل کی جانب سے غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز الشفا اسپتال کے سولر پینل سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث اسپتال میں توانائی حاصل کرنےکا واحد ذریعہ بھی تباہ ہوگیا ہے،جب کہ باقی اسپتالوں پر بھی شدید دباؤ ہے اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث اسپتالوں میں انکیوبیٹرز اور دیگر طبی آلات چلانا مشکل ہو رہا ہے۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا

اسرائیل کی جانب سے اسپتالوں کو بھی جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے، صیہونی فضائیہ غزہ میں موجود پانی کے کنووں اور بیکریوں کو بھی چن چن کر نشانہ بنا رہی ہے تاکہ غزہ کے باسیوں کی زندگی مزید اجیرن ہوجائے اور وہ غزہ کو خالی کردیں۔

اسرائیلی بربریت کے باعث 6 نومبر کو اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی 18 عالمی تنظیموں کے سربراہان نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں انسانی بنیادوں پر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان فوری سیز فائر کا مطالبہ کیا گیا ہے،انٹر ایجنسی اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے پر 18 تنظیموں کے سربراہان نے دستخط کیے جس میں کہا گیا ہےکہ بہت ہوگیا اب اس جنگ کو ہر صورت رکنا چاہیے۔

محمود عباس نے بلنکن کے ساتھ ملاقات میں غزہ جنگ بندی کا مطالبہ

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے عام شہریوں کا قتل سفاکیت ہے، اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 2.2 ملین فلسطینی محصور ہیں جہاں غذا، پانی، ادویات، بجلی اور ایندھن تک میسر نہیں جب کہ گھروں، پناہ گاہوں، عبادت گاہوں اور اسپتالوں پر بمباری کی جارہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

Leave a reply