ورلڈ ہیڈر ایڈ

اسرائیلی خفیہ ادارے کیساتھ کام کرنے والی کمپنی کو ٹھیکہ،ان کیمرہ اجلاس میں بریفنگ

اسرائیلی خفیہ ادارے کیساتھ کام کرنے والی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے معاملہ پر قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چئیرمین پی ٹی اے کی جانب سے اجلاس ان کیمرہ کرنے کی درخواست کی گئی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ حساس معاملہ ہے بہتر ہے کہ اجلاس کو خفیہ رکھا جائے ،مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہداللہ کی جانب سے اجلاس ان کیمرہ کرنے کی مخالفت کی گئی، مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ اگر حساس معاملہ ہے تو چھپانے کی کیا ضرورت ہے ،چئیرمین کمیٹی طلحہ محمود نے کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ کردیا

فضول آدمی کی کہیں گنجائش نہیں ہوتی سوائے سرکار کے، سینیٹر طلحہ محمود

ان کیمرہ اجلاس کے بعد سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے حساس اداروں کے حکام کو طلب کرلیا ،چئرمین قائمہ کمیٹی سینٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ حساس اداروں سے معاہدے سے متعلق رائے لی جائے گی, چئرمین پی ٹی اے کی اس معاملے پر بریفنگ سے مطمئن نہیں ہیں,26 ستمبر کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس معاملہ دوبارہ زیر بحث آئے گا ،چاہتے ہیں حقائق عوام اور میڈیا کے سامنے لائے جائیں ،اب تک متعلقہ کمپنی کو کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں, ہمیں اس معاملے پر انتہائی احتیاط سے کام لینا ہوگا

واضح رہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے نجی کمپنی کو انٹرنیٹ ٹریفک مانیٹرنگ کا ٹھیکہ دیا گیا تھا ،کمپنی اسرائیلی انٹیلی جنس کیساتھ بھی کام کر رہی ہے

رواں برس جنوری کے اوائل میں پی ٹی اے اور امریکی کمپنی سینڈوائن کارپوریشن کے مابین سکیورٹی سسٹم کیلئے معاہدے کی خبریں آنا شروع ہوئی تھیں، تاہم سینیٹ اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ سینڈوائن کارپوریشن اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی شراکت دار ہے۔

چیئرمین نیب اور چیئرمین پی ٹی اے کے نام ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری کے نمائندوں کی طرف سے لکھے گئے ایک خط کے مطابق پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی مانیٹرنگ کیلئے لینڈنگ سٹیشن پر انٹرنیشنل ٹریفک مانیٹرنگ سلوشن کے قیام کی فراہمی کا کام ان باکس ٹیکنالوجی پاکستان نامی کمپنی کو دیا ہے،یہ کمپنی سینڈوین نامی غیر ملکی کمپنی سے ٹیکنالوجی حاصل کرتی ہے جو اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک کا حصہ ہے،

خط میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل گیٹ وے انٹرنیٹ ٹریفک مانیٹرنگ کا کام دینے کا معاہدہ معمول کے ٹینڈرنگ طریقہ سے ہٹ کر کیا گیا اور من پسند کمپنی کو پی ٹی اے حکام نے تمام قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نواز دیا، پاکستان کی سائبر سکیورٹی کی صورتحال انتہائی کمزور ہے جس کا مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک ہمارے تمام کمیو نیکیشن نظام تک رسائی حاصل کر پائے گا جو ملکی سکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ ہے، چیئر مین پی ٹی اے اور چیئرمین نیب اس معاہدہ کا فوری نوٹس لیتے ہو ئے اسے منسو خ کر یں تا کہ ملک کے کمیونیکیشن نظام کو اسرائیلی اور دیگر دشمن ممالک کے انٹیلی جنس نیٹ ورک سے محفوظ بنایا جا سکے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.