fbpx

آئٹم سانگ بھارتی اداکارائیں کریں تو ٹھیک ہم کریں تو غلط

آمنہ الیاس جنہوں نے رواں برس ریلیز ہونے والی فلم چوہدری میں ” آتش” کے نام سے آئٹم سانگ کیا تھا اس سانگ کےلئے ان پر بہت تنقید ہوئی. تنقید کے پیش نذر فلم سے آئٹم سانگ کو مختصر بھی کر دیا گیا تھا. فلم میں آئٹم سنگ تو مختصر ہو گیا لیکن آمنہ الیاس پر ہونے والی تنقید کسی طور نہ رکی. اسی ھوالے سے آمنہ الیاس نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ہاں آئٹم سانگ کو بہت زیادہ برا سمجھا جاتا ہے اور اسکا نام لیتے ہی بولڈ اور عریانیت کا خاکہ زہن میں بنا لیا جاتا ہے.انڈین اداکارائیں اگر آئٹم سانگ کریں تو ان کو بہت پسند کیا جاتا ہے اور بہت زیادہ شوق سے دیکھا اور ڈسکس کیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ ماضی میں ریشم اور بابرہ شریف نے بھی آئٹم سانگ کئے ان کو پسند کیا گیا ان پر

کسی قسم کی تنقید نہیں کی گئی لیکن ہم کریں تو غلط . یہ کیسا معیار ہے؟‌. انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گانا گانا ہوتا ہے ائٹم سانگ بھی ایک طرح کا گانا ہوتا ہے اسکو عریانیت سے جوڑنا نہایت ہی غلط امر ہے. میں نے اسی سال ریلیز ہوئی فلم چوہدری میں جو آئٹم سانگ کیا وہ سکرپٹ کے حساب سے تھا لیکن اس پہ بھی بعض لوگوں نے تنقید کی . ٹھیک ہے تنقید کریں لیکن کسی کا حوصلہ توڑنے اور تنقید کرنے کے فرق کو سمجھیں.