fbpx

اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

✨اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا✨
قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں قوم کی تعمیر کے لیے تین رہنما اصول سکھائے تھے۔ وہ اصول اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط ہیں۔ انہوں نے تینوں میں سب سے زیادہ اہم اتحاد ہے اور بے شک اتحاد اجتماعی زندگی میں تیز اور دیرپا ترقی کے لیے سب سے قیمتی اصول ہے۔
ایک قوم ان لوگوں کا مجموعہ ہے جو کسی خاص علاقے میں رہتے ہیں اور تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور قومی مفادات کی خاطر مشترکہ طور پر کوششیں کرتے ہیں۔ ملک و ملت کی خاطر یکجا ہو کر تمام تعصبات کو مٹا کر مل جل کر کوشش کرنی انہیں منظم بناتا ہے۔
اتحاد و یکجہتی بہترین نظام زندگی کے طور پر اسلام کی عظمت اور پھیلاؤ کے لیے ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں نے خود کو ہندوؤں سے الگ کر دیا۔ لہذا ہماری بقا اور ترقی کا راز اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ پاکستان میں قومی اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہمارے طاقتور پڑوسی اور دشمن بھارت نے ابھی تک ہمارے آزاد وجود کو قبول نہیں کیا ہے اور ہر وقت ہمیں نقصان پہنچانے کے اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج خراب کرنے کے لیے کوٸی نہ کوٸی سازش کرتا رہتا ہے۔ کچھ دوسری طاقتیں بھی ہیں جو کسی نظریاتی ریاست کو اپنی سرحدوں کے قریب ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتی ہیں ۔ پاکستان کے دشمن ہمیشہ ملک میں قومی وحدت کو کمزور کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہماری اہم ضرورت ایک قوم کے طور پر اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا ہے جس نظریے پہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور قاٸد اعظم نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا ہم سب کو بحیثیت قوم اس نظریہ پر متحد ہونا ہے تا کہ بیرونی طاقتیں ہم پہ مسلط نہ ہو سکیں ہمیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ مزید وقت ضائع کیے بغیر ہمیں اپنے ملک میں اسلامی نظام زندگی متعارف کرانا چاہیے کیونکہ اسلام قومی وحدت اخوت اور مساوات پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے اسلام نے بھاٸی چارے کا ایک دوسرے سے حسن سلوک کا انسانیت کا اور بحیثیت قوم متحد ہونے کا درس دیا۔ اسلام سماجی انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے معاشرے کے ہر فرد کو حقوق دیے ہیں۔ اقلیتوں کو تحفظ دیا ہے ۔ اسلام معاشرے میں عدل وانصاف کا ضامن ہے۔
اقبال رح نے فرمایا تھا: کہ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے💫 ۔ ہمیں اپنے اند بحیثیت قوم اتفاق اور بھاٸی چارے کی فضاء قاٸم کرنی ہے جو وطن عزیز کی بقا اور ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں پاکستان میں جمہوریت اور نمائندہ حکومت کی کامیابی کے لیے ہم لوگوں کو حکومت کے معاملات میں شرکت کا احساس دلا کر انہیں محب وطن بنا سکتے ہیں پاکستان کے مساٸل کو حل کرنا یا اسکی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہم سب کو بھی مل جل کر اس کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا کرپشن ، رشوت ، بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
علاقائی مسائل کو مرکزی حکومت کی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر حل کرنا چاہیے۔ زبان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسے تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ہماری زبان ہماری شناخت ہے اور ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچانے کا بہترین زریعہ ہے ۔
مختلف صوبوں کے درمیان تجارتی اور سفری سہولیات بھی مہیا کی جائیں پریس ، سوشل میڈیااور ٹیلی ویژن بھی لوگوں کے نقطہ نظر کو ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہم ملک میں حقیقی معنوں میں قومی وحدت پیدا کریں گے تو ہم اپنے ملک کی سالمیت کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپس میں اتحاد و اتفاق قاٸم کرو گے تو تمام دشمنوں کو زیر کر سکو گے اور ترقی یافتہ قوم بن کے ابھرو گے مگر اگر آپس میں ہی الجھ جاٶ گے تو دشمن تمہیں نقصان پہنچاۓ گا ۔ہم سب اس ملت کے کے مقدر کا ستارا ہیں ایک قوم ہیں متحد رہیں تا کہ وطن عزیز مزید مضبوط ہو 😇
شمسہ بتول
@sbwords7