کسی کیخلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،ارشد شریف کیس میں ریمارکس

0
130
arshad shareef

اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی و اینکر ارشد شریف پر ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی.

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر سماعت کی.دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ارشد شریف پر کتنے مقدمات تھے؟وکیل شعیب رزاق نے عدالت میں کہاکہ آخری اطلاع کے مطابق ارشد شریف پر 16 مقدمات تھے،ارشد شریف پر دہشتگردی ، ریاست مخالف سرگرمیوں کے مقدمات تھے،گوادر اور ملک کے دور دراز علاقوں میں یہ مقدمات درج ہو رہے تھے،ہمیں تو نہ مقدمات کی کاپی اور نہ ہی تفصیلات دی جارہی تھی، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک اینکر یا صحافی کے انٹرویو کی بنیاد پر بہت سے مقدمات درج ہو جاتے ہیں،کیا 25کروڑ عوا م نے انٹرویو کے الفاظ سنے تو 25کروڑ مقدمات درج ہوں گے؟کیا ایک گوادر، ایک سبی ایک حیدر آباد میں مقدمہ درج کروائے گا،اس طرح ملک بھر میں مقدمات کا اختیارات سے تجاوز ہے، جو پہلی ایف آئی آر کسی ایکٹ پر ہوگی اس کی ہی پیروی ہوگی، یہ کام تو بھیڑبکریوں والا ہے، ایسے ہی عوام کو ٹریٹ کیا جاتا ہے، گوادر سبی اور پسنی میں مقدمات درج کرا دیئے گئے،ایک انٹرویو پر اتنے مقدمات کیسے درج ہوں گے،یہی کرنا تھا تو پہلے ہی شخصی آزادی نہیں دینی تھی،سٹیٹ کو ایسے کام کرنے ہی نہیں چاہئیں کہ اس پر لوگ ٹریٹ کریں یا بولیں،کسی کے خلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تو ایک واقعے پر دوسرے ایف آئی آر نہیں ہو سکتی

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غلط کام ہوا ہے تو غلط کام پر پراسیکیوٹ ہونا چاہئے،ریاست کو ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں کہ لوگ کمنٹ کریں اور پھر اس کے نتائج نکلیں ،جرنلسٹ کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے مگر اس کا طریقہ کار موجود ہے،آئندہ سماعت پر بتائیں کہ ایف آئی آرز کا سٹیٹس کیا ہے؟کیا ایک ہی ٹویٹ یا انٹرویو پر مقدمات درج ہوئے؟تمام ایف آئی آرز کو ریکارڈ پر رکھیں، تربت اور پسنی والے ہی باخبر ہیں صرف، اسلام آباد والے نہیں؟اس کا دوسرا نکتہ بھی ہے کہ سٹیٹ وہاں پر وٹیکٹ نہیں کر سکتی،یہ کہنا بہت آسان ہے کہ انڈیا اور اسرائیل فنڈنگ کررہا ہے،ریاست کا کام ہے کہ قانونی کارروائی کرے، کہنا بڑا آسان ہے کہ کوئی کسی سے پیسے لے کر یہاں بیٹھا ہوا ہے،سٹیٹ نے سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے،اغوا پر 7سال قید ہو جاتی ہے، یہاں سٹیٹ کے ادارے اغوا کررہے ہیں مگر کوئی بات ہی نہیں، عدلیہ پر بھی تنقید ہوتی ہے۔عدالتوں نے اپنا کام کرکے دکھانا ہے اور یہی سب باتوں کا جواب ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی

واضح رہے کہ صحافی ارشد شریف کو  کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

 ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

Leave a reply