fbpx

جب نیب قانون پاس ہورہا تھا اس وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ سپریم کورٹ

چیف جسٹس نے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس دیے کہ جب نیب قانون پاس ہورہا تھا پی ٹی آئی کہاں تھی؟ پی ٹی آئی نے اسمبلی کو ترک کر دیا۔ ملک و آئین کی خاطر سوچیں ، پی ٹی آئی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرے۔ چاہتے ہیں نیب ترامیم کا معاملہ واپس پارلیمنٹ جائے۔

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو روسٹرم پر بلا لیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ قریشی صاحب جب پارلیمنٹ میں حساس معاملات پر قانون سازی ہوئی آپکی جماعت کیوں نہیں تھی؟کیا پارلیمنٹ اور عدلیہ کو اپنا اپنا کام نہیں کرنا چاہیئے؟جب نیب قانون پاس ہورہا تھا پی ٹی آئی کہاں تھی؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی نے اسمبلی کو ترک کر دیا۔ملک و آئین کی خاطر سوچیں۔اتنی بڑی جماعت اسمبلی میں نہیں تھی پھر کہتے ہیں قانون خلاف قانون بن گئے۔پارلیمنٹ کے اجلاس میں پی ٹی آئی شرکت کرے۔پارلیمنٹ کے اندر معاملات پر بحث ہونی چاہیے۔جمہوریت کی خاطر پارلیمنٹ کو کام کرتے رہنا چاہیے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت بہت سوچ سمجھ کر ہی کی جا سکتی ہے۔اگر پارلیمان میں بحث ہوتی تو عدالت کو کئی گھنٹے سماعت نہ کرنا پڑتی۔پاکستان میں پارلیمان سپریم ہے۔مناسب ہوتا ان سوالات پر پہلے پارلیمان میں بحث ہوتی۔پارلیمان میں ان ترامیم پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کوئی بدل نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔ملکی معیشت کی حالت خراب ہے۔سب کو مل کر ملک کیلئے کام کرنا ہوگا۔آئی ایم ایف سے سٹاف لیول پر معاہدہ تو ہوگیا ہے لیکن اسے پبلک میں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔کرنسی روز بروز ڈگمگا رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر قریشی صاحب آپ بھی آئیں دوسرے طرف سے بھی لوگ بلائیں گے۔کبھی کبھی مفاد عامہ اور ملک کی خاطر ذاتی ترجیحات پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔کیا آپ کی جماعت نے کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا ہے کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالا جا سکا۔آپ کے پاس لوگوں کا اعتماد ہے۔اس ملک ،قوم اور آئین کے بارے میں سوچیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نےشاہ محمود قریشی سے مکالمے میں کہا کہ عوام نے بطور ممبر اسمبلی آپ پر جو اعتماد کیا تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔ جب آپکو پتا تھا اتنی حساس قانون سازی ہورہی تو پارلیمنٹ کیوں نہیں گئے۔شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ کئی گھنٹے تک پارلیمان کی کمیٹی میں نیب ترامیم پر بات ہوئی۔ہم پارلیمنٹ میں مختلف وجوہات کیوجہ سے نہیں تھے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔ صرف صدر نے قانون سازی کیخلاف مزاحمت کی۔ شاہ محمود قریشی نے عدالت کو بتایا کہ تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں قانون سازی پر مشاورت کی کوشش کی۔ہماری نظر میں نیب کی موجودہ ترامیم خلاف آئین ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا میرا بھی سوال ہے کیا درخواست گزار کا حق دعوی ہے؟درخواست گزار پارلیمنٹ سے واک آوٹ کر گئے۔درخواست گزار کے پاس عوام کا ایک ٹرسٹ ہے۔پارلیمنٹ میں اتنی سیریس ترامیم ہوئیں۔کیا اس صورتحال میں درخواست گزار کاحق دعوی بنتا ہے؟

عدالت نے قرار دیا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے یہ بات پارلیمنٹ میں اٹھائیں۔آئندہ سماعت پر سیاسی جماعتیں بتائیں کہ پارلیمنٹ میں معاملات حل کیوں نہیں ہوسکتے۔چاہتے ہیں یہ معاملہ واپس پارلیمنٹ جائے۔