fbpx

جبری تبدیلی مذہب کی کوئی گنجائش نہیں،قبلہ ایاز

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت و اپوزیشن کو میثاق سیاست کا مشورہ دیدیا

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت و اپوزیشن کو میثاق سیاست کا مشورہ دیدیا

قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیساتھ سیاسی مفاہمت کرانے کیلئے بھی تیار ہے، کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب مذہبی نہیں معاشرتی ، معاشی اور عدالتی مسائل ہیں، کم عمری کی شادی کے تدارک اور حوصلہ شکنی کیلئے کام شروع کردیا گیا، کم عمری شاد

ی کا مسئلہ آج سے نہیں 1929سے چل رہا ہے،سندھ میں شادی کی عمر 18 اور پنجاب و وفاق میں 16 سال ہے،وزارت مذہبی امور کیساتھ مل کر مسئلے کے حل کیلئے جید علما کے ساتھ کام شروع کردیا،تکنیکی کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے جید علما، مشائخ اور ماہرین کام کررہے ہیں،جبری شادیوں کا مسئلہ زیادہ تر سندھ میں ہے جبری تبدیلی مذہب کی کوئی گنجائش نہیں ہے،اغوا اور پھر جبری تبدیلی مذہب یہ خالصتاً معاشرتی اور عدالتی مسئلہ ہے،اغوا کرنا ایک غیر قانونی عمل ہے اس پر کیس چلنا چاہیے سزا ہونی چاہیے،

قبل ازیں ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی مسلح جدوجہد ملک کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، پیغامِ پاکستان وہ دستاویزہے جو وطن کے خلاف ہتھیار کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور ریاست کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کی کوشش کرے، جمہوریت یہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کا پرچار ہر سطح پر ہو۔

اسرائیلی وزیراعظم اور محمد بن سلمان نے 5 گھنٹے کیا باتیں کیں؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

قبلہ ایاز کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے میثاق معیشت کی ضرورت ہے، ریاستی مفادات میں کچھ امور اور میدان ایسے ہیں جہاں اشتراک عمل ضروری ہے،

آرزو اغوا یا قبول اسلام معمہ الجھ گیا لاہور احتجاج میں کر دی بڑی ڈیمانڈ

پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کیس میں عدالت کا بڑا حکم

پسند کی شادی کرنے والی آرزو راجہ کا بیان سن کر عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

پسند کی شادی کرنیوالی آرزو کی عمر کتنی؟ رپورٹ عدالت میں پیش