fbpx

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے؟ تحریر:ثاقب مسعود

موجودہ دور میں سائنس نے انسانیت کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں ، گزرتےوقت کے ساتھ ایجادات کی رفتار بھی بڑھ چکی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ ایجاد کیا جا رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ماضی کے وہ بہت سے کام جو پہلے انسان کرتے تھے اب مشینیں سرانجام دے رہی ہیں۔ علم کی رفتار کا شمار اب گوگل کے سرچ رزلٹس کے زریعے ہوتا ہے۔ ایک کلک کے زریعے پوری دنیا کی تفصیل آپ کی سکرین پہ ہوتی ہے۔ اور گھر بیٹھے بٹھائے بڑی آسانی سے آپ وہ معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ ماضی میں یہ کام اگر کرنا ہوتا تو کئی دن کی محنت درکار ہوتی تھی۔ گویا ٹیکنالوجی نے ہمارے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ دنوں کا کام ہم سیکنڈز میں سرانجام دے سکیں۔
جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آسانیوں کے علاوہ کچھ ایسی جدید مشکلات بھی ہیں جو ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔ خالی ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ چیز کے کچھ فائدے یا نقصانات ہوتے ہیں۔ جیسے آپ چھری سے چاہیں تو سبزی کاٹیں چاہیں تو گلے کاٹیں، یہ استعمال پہ منحصر ہے کہ نتیجہ اچھا ہے یا برا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اچھے اور برے دونوں مقاصد کےلیے کیا جا رہا ہے۔ موجودہ دور کی ٹیکنالوجی جس سے سب سے زیادہ نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے وہ سوشل میڈیا ہے۔ جہاں رابطہ اور انٹرٹینمنٹ کےلیے اس کے کچھ فوائد ہیں وہیں اس کے بہت سارے نقصانات بھی ہیں جن سے صرفِ نظر کرنے کی وجہ سے نئی نسل کا خاصہ نقصان ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں فیس بک ٹوئیٹر وٹس ایپ اور ٹک ٹاک وغیرہ جیسی ایپلیکشنز ہیں جنہوں نے نئی نسل کا دماغ بری طرح اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے۔ سوشل میڈیا کی نوجوان نسل کے دماغ پہ گرفت اتنی مضبوط ہے کہ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

دور کے لوگ تو یقینا سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دوسرے کے نزدیک آ رہے ہیں مگر۔ اس کے ساتھ ہی وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے بہت دور چلے گئے ہیں جو سوشل میڈیا کے آنے سے قبل ایک دوسرے کے نزدیک ہوا کرتے تھے۔ مثلا والدین، میاں بیوی، بچے ، بہن بھائی اور دوست۔ ہم کسی بھی ایسی جگہ جائیں جہاں یہ سارے رشتے موجود ہوں تو دیکھ کر حیرت سے جھٹکا لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے موبائل میں مصروف ہوتا ہے۔ گویا انسان انسان پہ مشین کو فوقیت دے رہا ہے، خالی انسان ہی نہیں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان ماں باپ پہ بھی مشین یعنی کمپیوٹر اور موبائل کو ترجیح دے رہا ہوتا ہے۔

جس رفتار سے سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ رہا ہے اسی رفتار سے اس سے جڑے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لڑکیوں کو سوشل میڈیا کے زریعے دوستی کا جھانسا دینا اور بعد ازاں گھروں سے بلوا کر زیادتی کا نشانہ بنا دینا یا قتل کر دینا۔ اس طرح کے حادثات آئے روز میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ جھوٹ، دھوکا دہی، قتل، مالی فراڈ وغیرہ سب سوشل میڈیا کے زریعے ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پہ شیئر کی گئی اپنی تصاویر کا جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں غلط استعمال بھی ایک بڑا نقصان ہے ۔ ایسی تصاویر کو بعد ازاں ایڈٹ کر کے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے علاوہ دھوکہ دہی کےلیے بنائی گئی آئی ڈیز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے زریعے کی جانے والی آن لائن خریداری کے نام پر بھی لوگوں کے ساتھ کافی دھوکہ دہی کے واقعات ہوئے ہیں۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پہ چیز کوئی اور دکھائی جاتی ہے۔ مگر پوری قیمت وصول کرنے کے بعد چیز ناقص معیار کی چیز بھجوا دی جاتی ہے۔ بعد میں دیے گئے پتہ یا موبائل فون نمبرز پہ رابطہ کریں تو وہ بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔

فیس بک کے استعمال پہ حکومتی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اسلام سے متعلق انتہائی گمراہ کم معلومات بھی پھیلائی جاتی ہیں۔ جو ایک جانب معاشرے میں بے چینی کا سبب بنتی ہیں اور دوسری جانب لوگوں میں اشتعمال انگیزی بھی پھیلاتی ہیں۔ اس سے سماج کا امن تباہ ہوتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایسے عناصر کے خلاف کاروائی نا کیے جانے کی وجہ سے عوامی طبقوں میں حکومت پہ اعتماد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کو فرقہ واریت کےلیے بھی بڑی پیمانے پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مناسب کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے سماج دشمن عناصر پوری آزادی کےساتھ محرم، رمضان اور ربیع الاول کے مہینوں میں ملک بھر میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہے ہوتے ہیں۔ یہ لگی ہوئی آگ پوراسال جلتی رہتی ہے اور اسی آگ کی بدولت کئی دفعہ قتل جیسی سنگین وارداتیں بھی ہو جاتی ہیں۔ نیم پڑھے لکھے اور ان پڑھ طبقے کی جانب سے اسلام کی غلط اور من چاہی تشریح بھی ایک ایسا نقصان ہے جو اسلام کا چہرہ بگاڑ رہا ہے۔ ایسے نقصانات کا خمیازہ ان سادہ لوح لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جو اپنی کم علمی کی بنا پر اسلام کی غلط تشریح پہ یقین کر لیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف وہ اپنی دنیا بلکہ آخرت کی تباہی کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں۔ الحاد کو ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان میں پھیلایا جا رہا ۔ اسلام آباد کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات سوشل میڈیا کی وجہ سے الحاد کا شکار ہو رہے ہیں۔ مگر اس کی روک تھام کےلیے بھی کوئی منصوبہ بندی یا عملی قدم دکھائی نہیں دیتا۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش سے ایک گروہ گرفتار کیا گیا جو لڑکیوں کو ٹک ٹاک سٹار بنانے کا جھانسہ دے کر انہیں بھارت سمگل کر دیتا تھا۔ اور بعد ازاں ان سے جسم فروشی کا دھندا کرواتا تھا۔ گروپ نے اعتراف کیا کہ تقریباََ ایک ہزار سے زائد لڑکیاں وہ بھارت سمگل کر چکا ہے۔ پاکستان میں ایسے کتنے گروپ متحرک ہیں اور ان کی ورک تھام کےلیے کیا حکمتِ عملی ہے اس کےلیے بھی کوئی پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔ برا سوشل میڈیا نہیں ہے، چیز کو اچھا یا برا اس کا استعمال بناتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے مناسب پالیسیاں بنا کر ان برائیوں کو روک لیا جاتا ہے تو یقیناََ پاکستان میں سوشل میڈیا زیادہ محفوظ ماحول میں چل سکے گا۔