جہانگیر خان ترین کی اچانک وطن واپسی کیوں؟ اہم انکشافات

جہانگیر خان ترین کی اچانک وطن واپسی کیوں؟ اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ظہرانے میں ق لیگ نے شرکت نہیں کی، ق لیگ کی عدم شرکت کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست جہانگیر خان ترین جو لندن میں تھے انہوں نے نومبر میں پاکستان واپسی کا اعلان کیا اور پھر فوری پاکستان کے لئے روانہ ہو گئے

باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق جہانگیر خان ترین کی اچانک پاکستان واپسی مسلم لیگ ق کو منانے کے لئے ہے،حکومت کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے حکومت نے کمیٹیاں بنائی تھیں اس میں مسلم لیگ ق سے مذاکرات اور تحفظات کے خاتمے کے لئے بنائی گئی کمیٹی میں جہانگیر خان ترین بھی شامل تھے،

جس کمیٹی میں جہانگیر ترین شامل تھے اس کمیٹی کو بعد ازاں ختم کر کے ایک اور کمیٹی بنا دی گئی تھی جس پر مسلم لیگ ق نے اعتراض عائد کیا تھا، نئی بننے والی کمیٹی میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ رابطے کے لئے چوہدری محمد سرور (کنوینر)، سردار عثمان بزدار اور شفقت محمود شامل تھے

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ہ ایک کمیٹی بنتی ہے ،دوسری ڈالی جاتی ہے، اب حکومت کی نئی کمیٹی سامنے آگئی ، پہلی کمیٹی سے مذاکرات کےبعدمعاملات میں بہتری آئی، اتحادیوں کو سوتن نہیں سمجھا چاہئے، حکومت کو نقصان پہنچا تو ہمیں بھی پہنچے گا، چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے، حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، جس کے ساتھ چلتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ چلتے ہیں،

اتحادیوں سے مذاکرات کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے بدلنے پر مونس الہیٰ نے بھی خدشات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پی ٹی آئی خود معاملات کو کیوں خراب کررہی ہے؟ حکومت کی سابقہ کمیٹی سےمثبت پیش رفت ہورہی تھی، سابقہ کمیٹی میں جہانگیرترین، پرویزخٹک اور شہزاد اکبر شامل تھے.

مونس الہیٰ کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ وزیراعظم عمران خان کوفیل کرناچاہتے ہیں ہمارامعاہدہ تھاکہ ہمارے وزرا باا ختیار ہوں گے تین اضلاع کے حوالے سے معاملات طے ہوئے تھے طے ہوا تھاکہ ہماری وزارتوں میں مداخلت نہیں کی جائے گی،شفقت محمودنے کہا جو پہلی کمیٹی سے معاملات طے ہوئے اس پرعمل ہوگا،پہلی کمیٹی سے جومعاملات طے ہوئے تھےان پرکام شروع ہوگیا تھا،

اب جب پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف تحریک شروع کی تو اس حوالہ سے مشاورت کے لئے وزیراعظم عمران خان نے اتحادی جماعتوں کو ظہرانے پر بلایا لیکن ق لیگ نہیں گئی اور ق لیگ نے شدید خدشات کا اظہار کیا، وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اور چوھدری مونس الہیٰ دونوں کا کہنا تھا کہ ہمارا اتحاد کھانے کے لئے نہیں ہے.

ق لیگ کے سخت رد عمل کے بعد حکمران جماعت تحریک انصاف کی کچھ اہم شخصیات نے باخبر ذرائع کے مطابق جہانگیر خان ترین سے رابطہ کیا اور انہیں واپس آنے کے لئے قائل کیا، جس کے بعد جہانگیر خان ترین واپس روانہ ہوئے، اب آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ق کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے جہانگیر خان ترین جلد چودھری برادران سے ملاقات کریں گے،

باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق حکومت اگر چوھدری برادران کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے کسی اور شخصیت کو بھیجتی ہے تو حکومت کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ چوھدری برادران نہیں مانیں گے اور جہانگیر خان ترین کے بارے میں چوھدری برادران خود کہہ چکے ہیں کہ انکو کمیٹی میں ہونا چاہئے، اسلئے حکمران جماعت نے جہانگیر خان ترین کو واپس بلایا ہے تا کہ حکومت کے لئے آنیوالے دنوں میں اتحادی جماعتوں کی جانب سے کوئی بڑی مشکل کھڑی نہ ہو.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.