fbpx

ترکمانستان میں”جہنم کے دروازے”نامی گڑھے کو بند کرنے کا فیصلہ

ترکمانستان میں موجود "جہنم کے دروازے” نامی آگ کے گڑھے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف نے ماہرین کو حکم دیا ہے کہ وہ قراکم صحرا کے وسط میں پائے جانے والے 50 برس سے “جہنم کے دروازے” نامی گڑھے میں دہکتی آگ کو بجھانے کا کوئی راستہ نکالیں-

صدر ترکمانستان نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں قدرتی ذخائر کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم منافع کما سکتے ہیں لیکن وہ ضائع ہو رہا ہے۔ اس منافع سے ہم لوگوں کی زندگیاں بہتر کر سکتے ہیں۔

ایسےلگ رہا ہے جیسے دنیا ختم ہونے جارہی ہے: ماحولیاتی ماہرین نےدنیامیں‌بڑی تباہی کی پیش گوئی کردی

قربان قلی بردی نے کہا کہ انسانوں کے ہاتھوں بننے والے اس گڑھے کی وجہ سے ماحول اور اردگرد رہنے والے لوگوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس لیے ماہرین اس بارے میں کوئی راستہ نکالیں اور آگ کو بجھانے کی کوشش کریں۔

واضح رہے کہ یہ آگ دراصل زیر زمین سے نکلنے والی گیس کے باعث لگی ہوئی ہے 1971ءمیں گیس کے اس کنوئیں میں ”ڈرلنگ“ کے دوران ایک حادثہ ہوگیا تھا،اس وقت ترکمانستان سویت یونین کا حصہ ہوا کرتا تھا کھدائی کے دوران اچانک زمین پھٹنے سے ایک گڑھا وجود میں آگیا اور اس میں سے متھین گیس خارج ہونے لگی حادثے کے بعداس مسئلے کے حل کے طور پر اس گیس کو آگ لگا دی کہ زہریلی گیس سے نزدیکی آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا ان کا اندازہ تھا کہ شاید چند دنوں میں یہ گیس ختم ہو جائے گی اور آگ جلد ہی بجھ جائے گی لیکن قدرت کا کرنا یہ کہ آگ اب تک لگی ہوئی ہے لیکن ترکمناستان میں بنا یہ گڑھا سائنسدانوں کی غلطی کی وجہ سے 50 سال سے آگ اگل رہا ہے اور ہزار کوشش کے باوجود سرد ہونے کا نام نہیں لے رہا۔

230 فٹ چوڑا یہ گڑھا ترکمانستان کے ایک گاﺅں درویز میں واقع ہے جس کو مقامی افراد” جہنم کا دروازہ“ کے نام سے پکارتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں سے نکلنے والے شعلے سرد ہونے کا نام نہیں لیتے اور 50 سال بعد بھی وہاں آگ آج بھی اس رفتار سے جل رہی ہے جس رفتار سے پہلے دن جل رہی تھی۔ اب یہ گڑھا ایک بڑا سیاحتی مقام بن گیا ہے اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ ” جہنم کا دروازہ“ دیکھنے کےلیے درویز کا رخ کرتے ہیں۔

1971 سے بننے والے اس گڑھے میں لگنے والی آگ کو بجھانے کی متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اس گڑھے کی چوڑائی 70 میٹر اور گہرائی 20 میٹر ہو چکی ہے اور یہ اب یہ سیاحوں کےلیے ایک پرکشش جگہ بن چکا ہے۔

معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟