fbpx

جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس لعنت سے چھٹکارا کسی بھی دور میں نہیں پایا جاسکا _ معاشرے میں جڑ پکڑ جانے والے اس رواج میں طبقہ ہاۓ زندگی کے ہر طبقے کو جکڑ رکھا ہے _ خواہ امیر لوگوں کا طبقہ ہو متوسط یا غریب ہر کوئی اپنی حیثت سے اس رواج کو زندہ رکھے ہوئے ہے _ امیروں کو شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں اپنی دولت کی نمائش کرنے اور دوسروں پر دولت کے بل بوتے پر دھاک بٹھانے کا ایک موقع مل جاتا ہے جس میں وہ کروڑوں کے گھر سے لیکر گاڑیوں سونے چاندی کے جہیز کے تحائف سے خوب نمائش کر پاتے ہیں _ عام طور پر ہمارے معاشرے میں اس نمائش کا اثر یہ ہوتا ہے کے اکثر لوگ مرعوب ہو جاتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کے خود بھی کچھ ایسا کرسکیں _

دوسری جانب امیروں میں یہ دوڑ زور پکڑتی ہے اگر فلاں اتنا کرسکتا ہے تو میں اس سے بھی بڑھ کر دکھاؤں گا _ یہی دکھانے کی دوڑ معاشرے میں موجود متوسط اور غریب طبقے کو پیچھے چھوڑتے ہوۓ مزید بے بس بناتی ہے _ جہیز کا بوجھ ہر شخص نہیں اٹھا پاتا اور کچھ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی جب بیٹے کا رشتہ طے کرتے ہیں تو ہونے والی بہو کے گھرانےسے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں _ کچھ لگی لپٹی باتوں سے اظہار کر دیتے ہیں تو کچھ کھل کر مطالبے کرتے ہیں اس احساس کے بغیر کے لڑکی کے والدین خواہ ان مطالبوں کو پورا کرسکیں یا نہیں

جہیز کے اسی زور پکڑتے مطالبوں نے بہت سی جوان بچیوں کی شادیوں کو تاخیر میں ڈال رکھا ہے _ لڑکی کے والدین کیلئے محض جہیز کا بندوبست کرنا ہی نہیں شادی کا کھانے اور ہونے والی رسموں کا بھی خرچ اٹھانا ہوتا ہے جو کے مہنگائی کے اس دور میں کافی دشوار ہے _

اتنی جدوجہد اور محنت کے بعد بھی جب غریب آدمی بیٹی کی شادی کا فریضہ ادا کر دیتا ہے تو پھر بھی اسکی بیٹی کو سسرال میں کم جہیز لانے کے طعنے اور کوسنے سننا پڑتے ہیں _ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے _ کیوں کے کچھ لوگوں کی لالچی ذہنیت کسی کی بیٹی کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہے _

اگر جہیز دیکر بھی والدین اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کی ضمانت حاصل کر سکیں تو بھی کافی ہوتا لیکن اسکے باوجود جہیز کے نامہ پر والدین کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے _ افسوسناک پہلو یہ ہے کے کئی خواتین کی شادی کے بعد علیحدگی اور طلاق کے بعد انکے جہیز پر سسرال کا قبضہ رہتا ہے_ جو کے حقیقت میں ان خواتین کا حق ہے جو انھیں واپس دے دیا جانا چاہئیے _

ایسی صورتحال میں چند خواتین نے عدالت سے مدد کیلئے رجوع کیا جب انھیں طلاق دے دی گئی تو جہیز واپس نہیں کیا جارہا _ مختلف مقدمات میں جہیز میں خریدے جانے والے سامان کی رسیدیں بھی عدالت میں پیش کی گئیں لیکن سسرال والے ان چیزوں کی موجودگی سے انکاری رہے اور نہ ہی انکو واپس کرنے کو تیار تھے _

ٹوٹتے گھر کی بربادی ہی کافی نہ ہو بلکے اوپر سے دیا جانے والا جہیز بھی سسرال والے اینٹھ لیں تو یہ مظلوم پر مزید ظلم ہے _

ایسے میں کئی مقدمات میں یہ شکایت عدالت تک پہنچائی گئی کے عدالتی حکم کے باوجود جہیز کا کافی سامان واپس نہیں کیا گیا _ مشکل یہ ہے کے جہیز کے اس سامان کو دیا جانا ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے _

ایسے بڑھتے ہوۓ واقعات نے عدالت کو اس مسلے کے حل کرنے کیلئے اقدام کرنے پر مجبور کردیا ہے _ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو اب حکم دیا ہے کے وہ نکاح ناموں میں اضافی خانوں کا اندراج کرے جہاں جہیز کی تفصیل درج کی جاسکے _ ایسے میں ہر چیز نکاح نامے میں لکھ دی جاۓ کے جہیز کے نام پر کیا دیا گیا_ نکاح ایک باہمی معاہدہ ہے اور اس پر جہیز کی تفصیل کا اندراج خواتین کو مستقبل میں تحفظ دے گا کے خدا نخواستہ اگر

انکی شادی ناکام ہوتی ہے تو انکو دئیے جانے والے جہیز کا اندراج اس بات کو یقینی بناۓ گا کے سسرال کو وہ درج اشیاء واپس دینا ہونگیں _ لہٰذا یہ سب تحریری شکل میں محفوظ ہوگا _ ایسی صورت میں سسرال والے انکار یا جہیز کی واپسی میں حیل وحجت نہیں کرسکیں گے

لاہور عدالت کے اس فیصلے سے نجی مقدمات کو تیزی سے نبھٹانے اور حقدار کو اسکا حق واپس دلانے میں مدد ملے گی _

ہم میں سے ہر ایک کو جہیز کی اس لعنت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئیے تاکے جہیز کے نام پر جوان لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی نہ ہوں اور بیٹیوں کے والدین پر کسی قسم کا بوجھ نہ ڈالا جاۓ _

ہمارے سامنے نبی پاک ﷺ کی ہے جنہوں نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہہ کو چند ایک ضروری استعمال کی چیزوں کے سوا دنیاوی سامان نہ دیا بلکے اپنی بیٹی کو بہترین تربیت علم اور اخلاق سے مزین کیا _ یہی وہ بہترین تحفہ ہے جو والدین اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں _

بیٹیوں کی دی جانے والے تعلیم ، ہنر ، تربیت اور اخلاق ہی وہ دولت ہے جو تمام عمر انکے ساتھ رہے گی جبکے جہیز کے نام پر ملنے والا مال و اسباب ناپائیدار ہے جو ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتا _