fbpx

جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم رائے

جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم رائے
مجھے عام طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں ایک ٹاپ پر بات کیا کروں تو ٹاپک اکٹھے نا کروں لیکن مسلہ یہ ہے کہ میرے اکثر ٹاپکس ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جیسے نزلہ زکام اکٹھا لکھا جاتا ہے صبح وشام دن ورات ایک ساتھ لکھے جاتے ہیں ویسے میرے ٹاپکس بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ایک ٹاپک دوسرے کو مکمل کرتا ہے اور دوسرا پہلے کو۔ جن دو موضوعات پر بات کررہی ہوں یہ معاشرے کی بہت بڑی اور تلخ حقیقت ہیں۔ اور اسکا شکار ہونے والے بھی نوجوان اور شکار کرنے والے بھی نوجوان۔ جہیز ایک لعنت ہے اس بات پر سارا پاکستان اور معاشرہ متفق ہے۔ جتنے مرضی اس سروے کروائیں لڑکیاں لڑکے اسے لعنت قرار دیتے نظر آئیں گے۔ پاکستان کی ادھےسے زیادہ ابادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ نوجوان مستقبل ہیں ہمارا۔ انکے قول فعل میں تضاد اتنا ہے کہ بعض دفعہ سمجھ نہیں اتی کہ یہ خاندان کو سمبھالنا تو دور کی بات اپنے آپ کو سنبھال پائیں گے؟ یہی حال سوشل میڈیا کا یہاں جہیز پر بحث کریں تو بھی اپکو 99فیصد جہیز کو لعنت سمجھیں گے اور اسے برا کہیں گے تو اگر جہیز ایک لعنت ہے اور اس لعنت کی وجہ سے کئی بچیوں کے سر میں چاندی اتر آئی ہے تو پھر وہ ہیں کون جو جہیز لے رہے ہیں یا مطالبہ کررہے ہیں؟ کون لمبی لمبی لسٹیں بنا کے دیتا ہے؟ کون ہیں جو اب فرنیچر اور الیکٹرونکس سے نکل گاڑی اور پلاٹ تک مطالبہ کررہے ہیں؟ کون ہے جو لڑکے کی ماں کے لیے کنگن کا مطالبہ کررہا ہے؟ یقیناً یہی نوجوان جو یو ہر جگہ اسے لعنت قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن عملا اسکا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں اگر اس پر ان نوجوانوں سے پوچھا جائے تو تاویلیں گھڑتے ہیں کہ امی نے کہا ہے باجی نے کہا ہے میں تو جہیز کے خلاف ہو لیکن ماں بہنوں کے آگے سر نہیں اٹھا سکتا ورنہ وہ کہیں گی کہ دیکھا زن مرید بن گیا ہے۔

لیکن یہ تمام چیزیں میں اس کو بنوا دونگا یا جو وہ جہیز کے نام پے دیں گے میں کسی طرح لوٹا دونگا کس نے پھر واپس لینا اور کس نے لوٹانا۔ اسی طرح لڑکیاں بھی کہیں گی کہ اس لڑکے سے شادی کریں گی جو جہیز نہیں لےگا یا جہیز نہیں مانگےگا۔ میرے والدین نے مجھ پر اور میری تعلیم پر پہلے ہی لاکھوں خرچ کیے ہیں مزیدانکا بوجھ نہیں بننا۔ لیکن عملا وہ بھی جہیز کے لیے حریص پائی گئیں۔ یوں چیزیں اکٹھی کررہی ہونگی جیسے پہلی بار لے رہی ہیں یا آخری بار۔ الله کی بندیوں والدین ہیں ساری زندگی دیں گے آخری بار تھوڑی ہے کہ اس قدر لالچ کرو پلاسٹک کی بالٹی تک لیں گی۔ باپ کو بھائیوں کو مقروض کریں گی جہیز اور شادی کے فنکشنز کے نام پر۔ اسی طرح لڑکے کے والدین بھی یہی کہتے نظر آئیں گے کہ ہم اپنے لیے تھوڑی کہہ رہے ہیں جو بھی چیزیں ہونگی بچوں کے ہی کام آئیں گی۔۔ اب آتے ہیں حق مہر کی طرف، حق مہر وہ رقم ہوتی ہے جو نکاح کے وقت لڑکے کی طرف سے لڑکی کے لیے لکھی جاتی ہے اور ادا کی جاتی ہے۔ شریعت میں بھی اس کی اجازت ہے لیکن نقصان تب ہوتا ہے جب حق مہر شرعی ہونے کے بجائے یا، لڑکے کی مالی حثیت کو مدنظر رکھے بغیر طے کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ لاکھوں اور بعض دفعہ کروڑوں میں لکھا جاتا ہے۔ لڑکی والے سکیورٹی کے نام پے یہ پیسہ لکھواتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس لڑکے کی احثیت ہی نہیں کہ وہ اتنی ادائیگی کرسکے تو لکھوایا کیوں جاتا ہے؟ کیا یہ بوجھ نہیں ہے؟ ایک لڑکا جسکی عمر ہی کم و بیش 25 سے 30 سال ہے وہ تمام تر آسائشات فوراً کیسے دے سکتا ہے جن آسائشات کو دیتے ہوئے اپکے والد کا سر سفید اور کندھے جھک گئے۔ اور کیا واقعی وہ لاکھوں کا حق مہر خوشیوں کی ضمانت ہے؟ کیا واقعی وہ سکیورٹی دے سکتا ہے؟ حادثات زندگی کا حصہ ہیں ان سے محفوظ الله کی زات رکھ سکتی ہے روپیہ پیسہ نہیں۔ اس لیے خدارا شادی کو سنت نبوی صلی الله عليه والہ وسلم سمجھ کر ادا کرو نا کہ کاروبار۔ جب شادی کو کاروبار اور محض لین دین کا زریعہ بناؤگے تو کہاں سکون پاؤگے؟ کیسے برکت ہوگی اس رشتے میں؟ نکاح میں برکت ہے اس برکت کو آسان کیجے تاکہ زنا کا راستہ روکا جا سکے۔ نکاح سستا کیجے تاکہ بہن بیٹی عزت سستی نا ہو۔ بیٹیوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو انہیں قرانی تعلیمات دیں انہیں دنیوی تعلیم دیں پاؤں پے کھڑا کریں لیکن حد سے تجاوز نا کرنے دیں
جزاک الله