fbpx

جہانگیر ترین اورعلیم خان پارٹی میں آئے،محنت کی مگر، عمران خان بول پڑے

جہانگیر ترین اورعلیم خان پارٹی میں آئے،محنت کی مگر، عمران خان بول پڑے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اونچ نیچ زندگی کا حصہ ہے اور اسپورٹس آپکو ہار اور جیت دونوں کے لیے تیار کرتی ہے۔ قائد اعظم کے علاوہ کسی اور سیاست دان نے زندگی کے بائیس سال اپوزیشن میں نہیں گزارے۔

ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک بہت بڑی سازش باہر سے کی گئی اور یہاں کے میر جعفروں نے ملکر بائیس کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو گرایا کیونکہ ہم آزاد خارجہ پالیسی چلانا چاہتے تھے۔عمران خان نہ بھی رہا تو ممبرز براہ راست ووٹ کرکے اپنا لیڈر منتخب کر لیں گے لیکن آج پاکستان کے لیے سب سے خوش آئند چیز یہ ہے کہ تمام چور ایک طرف اور عوام تحریک انصاف کیساتھ دوسری طرف کھڑی ہے۔

تحریک انصاف چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہونے والے جہانگیر ترین اور علیم خان کے بارے میں عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان پارٹی میں آئے اور محنت بھی کی لیکن جو مایوسی کی بات ہے کہ کیا انہوں نے اس آئیڈیل کے لیے محنت کی جسکے لیے میں 26 سال پہلے سیاست میں آیا تھا بدقسمتی سے انکا وہ آئیڈیل نہیں تھا قوم تب تباہ ہوتی ہے جب چھوٹے چور پکڑلیں اور بڑے کو چھوڑ دیں، جہانگیر ترین اور علیم خان کا مقصد اقتدار میں آکر فائدہ اٹھانا تھا علیم خان مجھ سے توقع کرتے تھے کہ میں ان کی زمین لیگل کرا دوں، علیم خان راوی پر 300 ایکڑ زمین خرید کر لیگل کرانا چاہتے تھے، وہاں سے علیم خان اور میرے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں ،جہانگیر ترین ان کا مسئلہ چینی بحران تھا جس پر کمیشن بھی بنایا جہانگیر ترین ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے جو ملک کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں شوگر مافیا پر انکوائری بٹھائی تو جہانگیر ترین سے اختلافات ہو گئے اداروں میں کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے بیٹھے ہیں، ہمارے اداروں میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جو ان کا ساتھ دیتے ہیں

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں ہمارے اداروں میں وہ جذبہ پیدا ہو کہ طاقت ور کو قانون کے نیچے لایا جائے اور اسکے لیے عوام کا دباؤ ہو کہ کوئی کرمنل اور چور ہم پر مسلط نہ ہوسکے۔جب آپ اکثریت کیساتھ پاور میں آتے ہیں تو آپ کے پاس اختیار ہوتا ہے قانون بدلنے کا، گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں ہمارے پاس وہ اکثریت نہیں تھی جسکی وجہ سے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ اگلے انتخابات کے لیے ٹکٹ صرف اسے دیں گے جسکی سوچ پاکستان کے لیے ہو نہ کہ ذاتی مفاد اور اسکے ساتھ ساتھ ساتھ ہم دنیا میں پاکستانی پروفیشنلز کو ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ اہم جدید وزارتوں میں وہ پاکستان کی مدد کریں۔ میں نے کرکٹ سے لیکر شوکت خانم اور نمل تک کبھی میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں آرمی چیف کے عہدے کے لیے سوائے میرٹ کے کوئی اور فیصلہ کرتا۔ پارلیمانی نظام جمہوریت کی بنیاد اخلاقی جواز پر ہوتی ہے آج عوام اس لیے سڑکوں پر ہے کہ ہم کرپشن نہیں کر رہے تھے ہماری حکومت گرانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا۔ کسی بھی نظام پر شریف یا زرداری کو بیٹھا دو وہ سسٹم بھی کرپٹ ہو جائے گا، میں آپکو چیلنج کرتا ہو آپ نواز شریف کو انگلینڈ میں وزیراعظم بنا دو دس سال بعد وہ پاکستان سے قرض مانگیں گے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جو اس سازش میں ملوث ہیں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس طرح عوام سڑکوں پر آ جائے گی اور انکا اگلا ہدف کردار کشی کرنا ہے لیکن جس طرح عوام انکے خلاف کھڑی ہوئی ہے میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ امپورٹڈ حکومت کا اتحاد غیر فطری ہے، ان میں زیادہ تر لوگ ضمانتوں پر ہیں اور صرف ہماری کامیابی کے ڈر سے یہ اکٹھے ہیں کیونکہ پھر انکی سیاست کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

توہین مذہب مقدمہ، چھٹی کے روز درخواست پر سماعت، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

توہین مذہب کے مقدمات، شیریں مزاری نے اقوام متحدہ میں مسئلہ اٹھا دیا

گرفتاری کا خوف،شیخ رشید توہین مذہب مقدمہ میں ضمانت کروانے پہنچ گئے