fbpx

بھارتی فلم”جے بھیم” نے مقبولیت اور ریکارڈ میں ہالی ووڈ فلم کو پیچھے چھوڑ دیا

دلتوں پر بننے والی بھارتی فلم "جے بھیم ” نے ریٹنگ اور مقبولیت میں ہالی ووڈ کی شہرہ آفاق فلم ’’گاڈ فادر‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑدیا۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بالی ووڈ کے فلمسازوں اور اکشے کمار، اجے دیوگن، رنویر سنگھ جیسے اداکاروں کو اپنی فلمیں ہٹ کروانے کا صرف ایک ہی فارمولا معلوم ہے کہ اپنی فلموں میں پاکستان اور مسلمانوں کو جس حد تک ہوسکے منفی کرداروں میں دکھانا اور انہیں دہشت گرد قرار دینا برسوں گزرنے کے باوجود بالی ووڈ اب بھی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف جنون سے باہر نہیں نکل سکا اگر نکلتا تو اسے نظر آتا کہ دراصل بھارت خود ایک ایسی پستی میں گرا ہوا ہے جس میں انسانوں کو جانور سمجھ کر انہیں پیروں تلے روندنے سے بھی گریز نہیں کیاجاتا-

بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو اچھوت قرار دے کر پیروں تلے روند دینا اس بھارتی نام نہاد جمہوریت کا ایک ایسا بھیانک چہرہ ہے جس پر انسانیت شرما جاتی ہے تاہم اب بھارت کے اسی چہرے کو بے نقاب کیا گیا ہے-

رواں ماہ 2 نومبر کو ایمیزون پرائم پر ’’جے بھیم‘‘ نامی فلم ریلیز ہوئی ہے جو بنیادی طور پر تامل زبان میں ریلیز ہوئی ہے لیکن ہندی اور تیلگو زبان میں بھی موجود ہے اس فلم میں بھارت کے اُس چہرے کو دنیا کے سامنے لایا گیا ہے جسے دیکھ کر خود بھارتیوں کے سر بھی شرم سے جھک جائیں اس فلم میں بھارت میں ذات پات کی قید میں جکڑے انسانوں پر وحشیانہ تشدد کی وہ مثال دکھائی گئی ہے کہ انسان اسے دیکھ کر شرماجائے اور خود سے نظریں نہ ملاسکے۔

فلم ’’جے بھیم‘‘ کی کہانی بھارت میں بسنے والے نچلی ذات کے افراد جنہیں ’’دلت‘‘ کہا جاتا ہے کے گرد گھومتی ہے ایسےافراد جو گزر بسر کے لیے سانپ اور چوہے پکڑنے کا کام کرتے ہیں اس فلم میں دلتوں کے خلاف ’’جبر‘‘ کی کہانی دکھائی گئی ہے-

فلم میں ایک اونچی ذات والے انسان کے گھر چوری ہوجاتی ہے تو وہ بغیر ثبوت کے سیدھا نچلی ذات والے انسانوں پر الزام لگادیتا ہے اور پولیس بھی بغیر کسی ثبوت کے غیر قانونی طور پر نچلی ذات کے ان افراد کو گرفتار کرلیتی ہے اور پھر ان پر بہیمانہ تشدد کرکے زبردستی ان سے اس گناہ کو قبول کرنے کے لیے کہاجاتا ہے جو انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔

کہانی میں ٹوئسٹ اس وقت آتا ہے جب گرفتار ہونے والے شخص کی حاملہ بیوی اپنے شوہر کو باہر نکلوانے کی ٹھان لیتی ہے اور پھر چندرو نامی وکیل(تامل اداکار سوریا) جو دراصل اس فلم کا مرکزی کردار ہے وہ ان دلتوں کی آواز بن کر سامنے آتا ہے اور پھر بھارتی قانون اور انصاف کی ایسی پرتیں کھلتی ہیں جسے دیکھ کر خود پولیس والے بھی شرماجائیں۔

اس فلم میں اونچی اور نچلی ذات میں فرق کی جس طرح عکس بندی کی گئی ہے اس نے بھارت کے چہرے سے کئی نقاب ہٹادئیے ہیں جس کی وجہ سے کئی لوگوں تکلیف بھی ہوئی ہے اوراسی لیے بھارت کی اونچی ذات وانیار کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص وانیار سنگم نے اپنی کمیونٹی کی ساکھ خراب کرنے کے لیے فلم کے ہدایت کار وپروڈیوسر کولیگل نوٹس بھیجا ہے۔

لیکن وہیں فلم کو پسند کرنے والے افراد بھی منظرعام پر آئے ہیں اور فلم کی ٹیم کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ’’وی اسٹینڈ ود سوریا‘‘ کا ہیش ٹیگ شروع کیا ہے جو ٹوئٹر پر ٹرینڈنگ میں ہے۔

فلم ایمیزون پرائم پر 2 نومبر کو ریلیز کی گئی تھی اور لوگوں کو اتنی زیادہ پسند آرہی ہے کہ آئی ایم ڈی بی (انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس) پر مقبولیت میں اس نے ہالی ووڈ فلم ’گاڈ فادر‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ’’گاڈ فادر‘‘ کی آئی ایم ڈی بی پر ریٹنگ 9.2 ہے جب کہ فلم ’’جے بھیم‘‘ کو 9.6 ریٹنگ ملی ہے۔ اس فلم کی کہانی کوئی بنی بنائی من گھڑت کہانی نہیں ریٹائرڈ جج کے چندرو کی حقیقی زندگی پر مبنی ہے فلم ’’جے بھیم‘‘ کو سینما میں ریلیز نہیں کیا گیا فلم کے ہدایت کار اور رائٹر ٹی جے گنانوال ہیں جب کہ فلم کو جیوتیکا اور سوریا نے پروڈیوس کیا ہے۔

واضح رہے کہ دلت ہندوستانی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے قوانین ہونے کے باوجود انہیں بھارت میں آج کے دور میں بھی امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے-