fbpx

جام اویس موبائل پر بہت زیادہ تشدد گیم کھیلتا تھا، اکثر نشے میں دھت رہتا تھا

کراچی : جام اویس موبائل پر بہت زیادہ تشدد گیم کھیلتا تھا، اکثر نشے میں دھت رہتا تھا۔
ناظم جوکھیو پر دم توڑنے تک تشدد کیا جاتا رہا،ہو سکتا ہے مرنے کے بعد بھی تشدد کیا گیا ہو،واقعے کے بعد جام اویس کراچی سے فرار ہو کر خضدار تک پہنچ گیا تھا۔پولیس حکام کا انکشاف

ناظم جوکھیو قتل کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پولیس حکام نے ناظم جوکھیو کے قتل کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ جام اویس موبائل پر بہت زیادہ تشدد گیم کھیلتا تھا اور اکثر نشے میں دھت رہتا تھا۔حکام کے مطابق ناظم جوکھیو پر دم توڑنے تک تشدد کیا جاتا رہا۔ہو سکتا ہے مرنے کے بعد بھی ناظم جوکیھو پر تشدد کیا گیا ہو۔
پولیس کے مطابق جام اویس کراچی سے فرار ہو کر خضدار تک پہنچ گیا تھا۔جام اویس کراچی آیا اور پھر اس نے گرفتاری پیش کی، جام اویس پر چلنے والا کیس خالصتا قتل کا ہے۔جام اویس نے سرنڈر نہیں کیا بلکہ اسے گرفتاری دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔پولیس کے مطابق موبائل ڈیٹا کی مدد سے بھی تفتیش شروع کی گئی ہے۔
(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ جام اویس معاملے پر ایک اور چارج فریم کرنے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ناظم جوکھیو قتل کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور پولیس حکام نے جام ہاؤس میں لگے کیمروں کا غائب کیا گیا ڈی وی آر قیمتی ثبوت کے طور پر برآمد کر لیا۔پولیس حکام کے مطابق ناظم جوکھیو قتل کی واردات کے بعد ڈی وی آر موقع سے غائب کر دیا گیا تھا جسے اب پولیس نے حاصل کر لیا ہے۔مذکورہ ثبوت گرفتار کیے گئے ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد برآمد کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ڈی وی آر سے واقعے میں ملوث ملزمان کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔برآمد ہونے والے ڈی وی آر کو فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔کیس کے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے موبائل ڈیٹا کی مدد سے بھی تفتیش شروع کی گئی ہے۔جس کے بعد جام گوٹھ میں افضل جوکھیو، نیاز سالار ، جام عبدالکریم کے موبائل فون کی بھی لوکیشن آئی ہے۔ ناظم جوکھیو کے قتل کے 7 دن بعد بھی مقتول کا موبائل فون لاپتہ ہے۔
ناظم جوکھیو کی آڈیو اور ویڈیو کو مرکزی شواہد کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ٹیم نے مقتول کے بھائی افضل جوکھیو کے ساتھ جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق ناظم جوکھیو کو سر پر لگنے والا ڈنڈا جان لیوا ثابت ہوا۔ تاحال ناظم جوکھیو کا موبائل فون نہیں ملا۔تفتیشی حکام کے مطابق تلور کے شکار پر غیر ملکیوں کے ساتھ وائلڈ لائف کا عملہ موجود تھا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!