جمال کشوگی کے قتل بارے ‌ جو بائیڈن نے سعودی عرب کو وارننگ دے دی

جمال کشوگی کے بارے میں‌ جو بائیڈن نے سعودی عرب کو وارننگ دے دی
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق. ڈیموکریٹک امریکی صدارتی امیدوار نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے سعودی صحافی جمال کشوگی کے قاتلین کو انجام تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے. تفصیلات کے مطابق امریکی صحافی نے بائیڈن کے بارے میں سوال کیا کہ آپ کا سعودی نژاد صحافی جمال کشوگی کے بارے میں کیا خیال ہے . جبکہ سی آئی اے نے تحقیقات کی ہیں کہ جمال کشوگی کے قتل کا حکم سعودی حکمران نے دیا تھا اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس پر اپنا موقف دیا کہ صحافی کشوگی کے مجرم سعودی عرب میں‌ ہیں . امریکی حکومت کشوگی کے قاتلوں کو بچاتی آئی ہے . اس کے جواب میں جو بائیڈن نے کہا کہ کشوگی کے قاتلین کو مزید ہتھیار نہیں بیچیں گے. ان کے قاتلین کو اپنے کیے کی قیمت ادا کرنے کا وقت آگیا ہے . ہم کشوگی کے مجرموں کو رعایت دینے کے حق میں نہیں‌ ہیں


جمال خاشقجی کو2اکتوبر 2018 کواستنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا. جس کا الزام سعودی قیات پر خصوصا محمد بن سلمان پر تھا . دسمبر 2019 میں ایک سعودی عدالت قتل کا مقدمہ چلا کر 5 افراد کو سزائے موت سناچکی ہے،جمال خاشقجی کے بیٹوں نے مئی 2020 میں اپنے باپ کے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا،جمال کےبیٹوں کے اعلان کے بعد سعودی عدالت پانچوں قاتلوں کو معاف کرسکتی ہے،

سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خشوگی کی ہلاکت بارے اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ آگئی جس میں کئ اہم باتوں کا انکشاف کیا گیا ہے.

دسمبر 2019 میں سنائے جانے والے فیصلے میں سعودی عرب کی عدالت نے11 ملزمان کوذمہ دار قراردے دیا، سعودی عرب کی عدالت نے 5مجرموں کو سزائے موت سنا دی،جمال خاشقجی کیس میں 3 مجرموں کو 24 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے سعود القحطانی اور احمد اسیری کے خلاف ثبوتوں کی عدم موجودگی پر انہیں رہا کر دیا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.