fbpx

جمال خاشقجی قتل کیس میں اہم پیشرفت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،

ترکی کے حکام نے سعودی صحافی کے قتل کا مقدمہ سعودی عرب میں ہی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی سماعت روک کر مقدمے کو سعودی عرب منتقل کرنے کے حق میں فیصلہ سنا دیا مقدمے کی سماعت سعودی عرب منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی ترکی کے وزیر انصاف نے کہا تھا کہ حکومت اس درخواست کو منظور کرے گی

جمال خاشقجی کو 2018ء میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا قتل کی لرزہ خیز واردات پر دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس پر صحافی کے قاتلوں کے خلاف مقدمے کا آغاز کیا گیا ترکی جانب سے بارہا مطالبے کے باوجود سعودی حکام امریکی جریدے سے منسلک صحافی و کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 26 سعودی ملزمان کو ترکی کے حوالے نہیں کیا جس کے باعث ترک حکام نے قتل کا مقدمہ ترکی سے سعودی عدالت منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے

دسمبر 2019 میں ایک سعودی عدالت قتل کا مقدمہ چلا کر 5 افراد کو سزائے موت سناچکی ہے،جمال خاشقجی کے بیٹوں نے مئی 2020 میں اپنے باپ کے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا،جمال کےبیٹوں کے اعلان کے بعد سعودی عدالت پانچوں قاتلوں کو معاف کرسکتی ہے،

دسمبر 2019 میں سنائے جانے والے فیصلے میں سعودی عرب کی عدالت نے11 ملزمان کوذمہ دار قراردے دیا، سعودی عرب کی عدالت نے 5مجرموں کو سزائے موت سنا دی،جمال خاشقجی کیس میں 3 مجرموں کو 24 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے سعود القحطانی اور احمد اسیری کے خلاف ثبوتوں کی عدم موجودگی پر انہیں رہا کر دیا.جمال خاشقجی کو2اکتوبر 2018 کواستنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے سعودی سفیر کی ملاقات،کیا ہوئی بات؟

سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

بڑی تبدیلی، سعودی عرب میں کس کو سفیر مقرر کر دیا گیا؟

پاکستان سے انتہائی اہم شخصیت سعودی عرب پہنچ گئی

سعودی عرب کے دو ایئر پورٹس پر ڈرون حملے،فضائی آپریشن معطل

جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرینگے،منگیتر کا عدالت میں بیان

امریکی صدر جوبائیڈن نے دیا محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا

جمال خاشقجی قتل،سعودی ولی عہد نے خاموشی توڑ دی