fbpx

وزیراعلیٰ ہاؤس کے بعد گورنر ہاؤس بھی جائیں گے، حافظ نعیم الرحمان

وزیراعلیٰ ہاؤس کے بعد گورنر ہاؤس بھی جائیں گے، حافظ نعیم الرحمان
.جماعت اسلامی کراچی کے تحت نئے بلدیاتی قانون کے خلاف اٹھارویں روز بھی دھرنا جاری ہے

جماعت اسلامی کراچی کی امیر نے پریس کانفرنس کی، پریس کانفرس میں امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ آج خواتین آئی ہیں اور سیکنڑوں طالبات آئی ہیں۔مختلف جماعتوں کے افراد اس دھرنے میں شریک ہورہے ہیں۔یہ دھرنا اب کراچی کی توانا آواز ہے۔باقیوں نے دو دو ماہ کی تاریخیں دے دیں۔اس وقت کی اپوزیشن کی ایم کیو ایم بھی ہے وہ وفاق میں بھی حصہ دار رہی یے۔اس جماعت کے حکومت میں رہنے کے باوجود اس شہر نے پیچھے کی طرف سفر کیا ہے۔ہماری قوم کا بہت نقصان ہوگیا۔شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات چھنتی جارہی ہیں۔گرین لائن کا بھی ادھوا افتتاح ہوا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ روز بروز جوش دھرنے کا بڑھتا جارہا ہے جماعت اسلامی کے ڈسٹرکٹ سطح پر کارکنان اور عوام بڑی تعداد میں شریک ہوررہے ہیں۔ جن کی ذمہ داری تھی احتجاج، ان جماعتوں نے مشترکہ احتجاج کردیا۔اگلے احتجاج کی کال بھی مہینوں کے بعد کی دی۔ایم کیو ایم بار بار حکومت کا حصہ رہی لیکن شہر کی خدمت نہیں کی گئی۔شہر بنیادی سہولتوں سے محروم رہا ہے۔شہر میں کوئی ٹرانسپورٹ سروس نہیں ہے گرین لائن کو بھی ادھورا شروع کیا گیا صوبائی حکومت بار بار اعلان کرتی ہے لیکن ایک بس نہیں دے سکی 50 ہزار طالبعلم انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دیتے ہیں آگئے تعلیم کے لئیے 16 ہزار طالبعلموں کو موقع ملتا ہےتعلیم پر 277 ارب روپے تعلیم پر اور صحت 150 ارب سے زائد کا بجٹ پیش ہوتا ہے۔اتنا بڑا بجٹ کہا جاتا ہے کچھ نہیں پتا شہر کراچی میگا سٹی ہے۔اتنی بڑی آبادی والا شہر، اتنا زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کو اس کا حق نہیں دیا جارہا۔ہم چاہتے ہیں اس شہر کا حق اس کو دیا جائے اس شہر میں سرکاری ٹرانسپورٹ سروس مہیا کی جائے۔شہر کے تعلیم اور صحت کا نظام بہتر کیا جائے۔حکومت کراچی کے لئیے کچھ نہیں کررہی۔صوباٸی حکومت ترقی کے لئیے کچھ نہیں کررہی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے مردم شماری میں کراچی کا حق مارا ہے۔شہر کو حق ہے کہ اس کو ٹرانسپورٹ کا نظام ملے۔سرکلر ریلوے بند پڑی ہے ۔وفاقی اور صوبائی حکومت کے رویوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔دونوں نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ایک مرتبہ پھر شب خون مارا جارہا ہے وڈیرے تو اپنی مقامی آبادی کو پیس کر یہاں کھڑے ہوئے ہیں۔ہر بدلتے دن کے ساتھ کراچی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔کراچی ایک زبان بولنے والے کا شہر نہیں ہے ۔اگر اس شہر کو محروم کرو گے تو پورے پاکستان کو محروم کرو گے۔ایک ہفتے بعد بڑا مارچ کریں گے۔ہماری نظر پر سی ایم ہاؤس ہے۔ہم شہر میں مختلف شاہراہوں پر دھرنے دیں گے۔ہمارے پاس دونوں آپشن ہیں۔آج مزاکرات ہونے ہیں لیکن ہم با مقصد مزاکرات چاہتے ہیں۔پورے صوبے میں کل احتجاج ہوئے ہیں۔یہ ہمارے جتنے لوگ لاکر دیکھا دیں۔اس شہر میں جماعت اسلامی بکا اسٹیک ہے جماعت اسلامی نے اس شہر میں کم بیک کر لیا ہے۔اس وقت ہم ایشو پر بات کررہے ہیں۔سیٹیں کم زیادہ ہونے کی بات نہیں کررہے ہیں پیپلز پارٹی والے گورنر ہاؤس جانے بات کرتے ہیں۔کراچی کا بل کا مسئلہ حل ہونے کے بعد گورنر ہاؤس کا رخ کریں گے ۔پیپلز پارٹی عقلمند ہے تو مسئلہ کو حل کرے۔