fbpx

جامعہ بنوریہ کے مہتمم کی مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاؤس آمد، مصطفیٰ کمال سے ملاقات

جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعمان نعیم کی مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاؤس آمد، چئیرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال سے ملاقات کی –

باغی ٹی وی : ملاقات میں پی ایس پی کے شہید کارکن اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی گئی واضح رہے کہ کراچی میں این اے 240 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران سیاسی جماعتوں میں تصادم سے حالات کشیدہ ہوگئے، فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور 6 زخمی ہوئے تھے

چیئرمین پی ایس پی سید مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا تھا کہ ہمارے کارکنان پر حملہ اور فائرنگ کی،ہمارا کارکن شہید ہوا،ہم نے تو کسی کو پلٹ کر پتھر بھی نہیں مارا ،یہ ہار رہے تھے تو فائرنگ کردی۔ انہوں نے ہمارے مرکزی دفتر پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے وقت پولیس موجود نہیں تھی۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ انیس قائم خانی کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے وقت وہ موجود نہیں تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے کارکن زخمی ہوئے ہیں، پی ایس پی کا ایک کارکن شہید ہوا ہے۔ پی ایس پی رہنما و سابق ایم پی اے افتخار عالم بھی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے ہیں۔ ہم نے تو کسی کو پلٹ کر پتھر بھی نہیں مارا ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ان عناصر نےجتھوں کے ساتھ آکر پی ایس پی پر حملہ کیا۔ پی ایس پی رہنما انیس قائم خانی کی گاڑی کے ساتھ چلنے والی پولیس موبائل پر بھی گولیاں ماری گئیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ان واقعات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ جو لوگ بھی حملے میں ملوث ہیں ان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے ریاست میرے ساتھی کے قاتلوں کو گرفتار کرے یا پھر ہمیں بھی اسلحہ دے۔

خیال رہےکہ تصادم کے واقعات ایسے وقت پیش آئے جب کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ جاری تھی حلقے کے کل 309 پولنگ اسٹیشنز میں سے 203 انتہائی حساس قرار دیے گئے تھے جہاں پولنگ اسٹیشنز سمیت بوتھس پر بھی کیمرے نصب کیے گئے تھے حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔



صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے این اے240 کے ضمنی انتخاب کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعےکا نوٹس لے لیا تھا صوبائی الیکشن کمشنر نے چیف سیکرٹری سندھ اورآئی جی سندھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ علاقے میں امن وامان کی صورت حال کو کنٹرول کریں، الیکشن کے عمل کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی این اے 240 میں فائرنگ اور تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو ہدایت کی تھی کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دیں، جو قانون ہاتھ میں لے اس سے سختی سے نمٹا جائے وزیراعلیٰ سندھ نے الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن رہنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

اس حوالے سے ، کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ 200سے زائد افراد نے آکر صورت حال خراب کرنے کی کوشش کی، پولیس کی بھاری نفری نے پورے علاقےکو کلیئرکرایا ، ہنگامے میں ملوث افراد کی شناخت جلد کرلیں گے۔