fbpx

جمشید ظفر کا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے مصطفی قریشی

اداکار مصطفی قریشی نے کہا کہ ہے فلم انڈسٹری جب بہت بلندیوں پر تھی، فلمیں‌بہت زیادہ بزنس دے رہیں تھیں، کروڑ ہا روپے حکومت کے خزانے میں‌ ریونیو کی صورت میں دیتی تھی اس وقت سال میں دو سو فلمیں بنتی تھیں. جمشید ظفر اس وقت بہت بڑا نام تھے وہ ہر دوسری فلم کو پرڈیوس کر رہے تھے شمیم آراء نے بطور ڈائریکٹر جتنی بھی فلمیں‌ بنائیں ان کو فنانس جمشید ظفر نے ہی کیا تھا. جمشید ظفر کا شمار فلم انڈسٹری کے نامور پرڈیوسرز میں‌ہوتا تھا. ان کی بہت سلجھی ہوئی سوچ تھی اور یہی سوچ فلموں میں بھی نظر آتی تھی، بعض لوگوں نے گندی فلمیں بھی بنائیں لیکن جمشید ظفر کبھی بھی ان میں سے ایک نہیں‌ رہے. میں‌جمشید ظفر کی بہت ساری فلموں میں‌ کام کیا ان کے ساتھ کام کرنے بہت مزا آتا تھا نہایت ہی نفیس انسان تھے.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی پرڈیوسر کو پیسے کی کمی ہو جاتی تھی تو جمشید ظفر اسکی مدد کیا کرتے تھے اسکی مثال یہ ہے کہ ہم ایک فلم کی شوٹنگ کے

لئے ترکی گئے ہوئے تھے تو وہاں اس فلم کے پرڈیوسر کے پاس پیسوں کی کمی ہو گئی ادائیگی کرنے کےلئے پیسے نہ تھے تو جمشید ظفر نے اس پرڈیوسر کی مدد کی تو یوں وہ دوسروں‌ کے کام بھی آیا کرتے تھے. پچانوے فیصد ڈائریکٹر اور فنانسرز تو انتقال کر چکے ہیں جمشید ظفر جیسے اکا دکا لوگ ہیں آج جمشید ظفر بھی چل بسے. فلم انڈسٹری پہلے ہی نقصان میں جا رہی تھی بلکہ انڈسٹری ہے ہی کہاں.بلکہ میں‌ تو یہ کہوں گا کہ جمشید ظفرکا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے .