fbpx

’جنت کے پتھر‘ کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے پر موجود مقدس پتھر حجراسود کی فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی ہیں-

باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں موجود مسلمانوں کی دو مقدس مساجد مسجد النبوی اور مسجد الحرام کے امور کی نگرانی کرنے والے ادارے رئاسة شؤون الحرمين کے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹس سے ایسی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جنھیں اب تک حجراسود کی انتہائی باریک بینی سے بنائی گئی تصاویر میں شمار کیا جا رہا ہے۔


رئاسة شؤون الحرمين کے مطابق ’فوکس سٹیک پینورما‘ نامی فوٹوگرافی تکنیک کے ذریعے بنائی گئی ان تصاویر کی سات گھنٹے تک عکس بندی کی گئی اور ان تصاویر کو اکٹھا کرنے میں تقریباً 50 گھنٹوں کا وقت لگا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف تصاویر کو جوڑ کر ایک انتہائی مستند تصویر بنائی جاتی ہے جس کی کوالٹی بہترین ہوتی ہے اور اس کے ذریعے تصویر کی باریکیوں پر بھی بخوبی نظر ڈالی جا سکتی ہے۔


اس تکنیک کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا گیا کہ یہ تصویر بنانے میں سات گھنٹے صرف ہوئے۔ اس دوران 1050 فاکس سٹاک پینوراما بنائے گئے اور بالآخر 50 گھنٹوں کی پراسیسنگ کے بعد جو تصویر سامنے آئی وہ 49 ہزار میگا پکسلز پر مشتمل تھی۔

اس پتھر کی وضع انڈے جیسی ہے جس میں کالے اور سرخ رنگ کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اس کا قطر تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے اور یہ خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے پر دیوار کے ساتھ رکھا ہے۔


ان تصاویر کے سوشل میڈیا پر شیئر ہوتے ہی اکثر صارفین اس پتھر کی خوبصورتی کے حوالے سے تبصرے کیے تو کسی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب میں حجر اسود کو سپر ریزولوشن میں دیکھ سکتا ہوں۔

مسلمانوں کے لئے حجر اسود کی تاریخی اہمیت:

مسلمانوں کے لیے حجر اسود کی تاریخی اہمیت ہے اور عمرے اور حج کی غرض سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لیے اس پتھر کا چومنا لازمی ہے لیکن بھیڑ کی وجہ سے ہاتھ کے اشارے سے بھی چوما جا سکتا ہے۔


زائرین حج اسے چومنے کے لیے ایسے اوقات کا انتخاب کرتے جب طواف میں بھیڑ کم ہو تاکہ ان کے حج کے ارکان پورے ہوں۔


اس پتھر سے جڑی تاریخ دراصل مذہب اسلام سے بھی زیادہ قدیم ہے روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور انھیں تعمیر مکمل کرنے کے لیے ایک پتھر کی ضرورت تھی تو اس وقت یہ پتھر جنت سے اتارا گیا تھا –


پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت دینے جانے سے قبل خانہ کعبہ کی مرمت کے وقت حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کے لیے قبائل میں اختلاف ہو گیا تھا اور سب چاہتے تھے کہ یہ شرف انھیں حاصل ہو، چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ کل جو پہلا شخص خانہ کعبہ کی جانب آئے گا وہی فیصلہ کرے گا-


اس دن سب سے پہلے وہاں تشریف لانے والی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی اور انھوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اٹھا کر اپنی چادر پر رکھی اور تمام قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونوں کو پکڑ کر اسے اپنے ہاتھوں مبارک سے مطلوبہ جگہ پر رکھ دیا اور تمام قبائل اس فیصلے سے خوش ہو گئے –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.