fbpx

جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

شیخ رشید راولپنڈی کی سیاست کی رونق ہیں لال حویلی سے کئی مرد و زن نے سیاست سیکھی ہے 1980 کے دور سے شروع ہوجاؤں تو کئی راولپنڈی کے سیاسی چہرے میرے سامنے آجاتے ہیں لال حویلی لال حویلی نہیں سیاسی مکتب گاہ کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاک فوج اور عدلیہ کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے ان کے اس بیان سے سیاسی جماعتوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔ پاک فوج اور اس سے جڑے قومی سلامتی کے ادارے اور عدلیہ متنازع نہیں سیاستدان متنازع ہورہے ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ کی حمایت ریاست کی حمایت ہے قومی خود مختاری وطن عزیز کی سالمیت کی حمایت ہے۔ قوم اپنے جوانوں کو کیسے بھلا سکتی ہے جو اپنے گھروں سے دور ہمارے گھروں کے راستے محفوظ رکھنے کی جنگ لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے کرتے ان کا راستہ روکتے روکتے رزق خاک ہوگئے۔ یہ جوان قوم کا غرور ہیں اپنے اداروں پر قوم غرور کرتی ہے۔

ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے انہیں جانیں نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں بیان کرنا چاہیں تو ان کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کررہی ہیں قوم کو نفسانفسی میں ڈال کر ملکی اداروں کے خلاف سازش کررہی ہیں انہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس منصوبے میں کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ کئی افراد شامل ہوگئے ہیں۔ منصوبہ ساز یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ پاکستان نہ تو عراق ہے نہ لیبیا نہ شام نہ افغانستان ملک کے بعض سیاستدانوں کا گورکھ دھندہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تاہم جن کو آتا ہے انہیں خوب آتا ہے ایک طرف مکار اور چالاک دشمن نے اپنے تمام محاذ وطن عزیز کے خلاف کھول رکھے ہیں دوسری طرف اندرون ملک میں انتشار کی سیاست کی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ہ وش کریں خود اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جارہے ہیں۔

سیاستدان جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ملکی اداروں ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ اور کمزور کرنے کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس جشن آزادی پر عہد کریں کہ وطن عزیز کو معاشی دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔