fbpx

ریاستی طاقت کے استعمال کے خلاف دائر پٹیشن پر حکومت سے جواب طلب

ریاستی طاقت کے استعمال کے خلاف دائر پٹیشن پر حکومت سے جواب طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے پرامن شرکاء کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے خلاف دائر پٹیشن پر وفاقی حکومت سے دو نومبر کو رپورٹ طلب کر لی عدالت عالیہ نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کرنے پر چیئرمین پیمرا سے بھی رپورٹ طلب کر لی عدالت عالیہ نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے خلاف دائر پٹیشن کو قابل سماعت قرار دے دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے شہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر پٹیشن پر دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔کالعدم تحریک لبیک کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء پر ریاستی تشدد کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر پٹیشن کی سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق شہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت کی۔ پٹیشنر کی جانب سے طارق اسد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حکومت تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء کے خلاف بے دریغ طاقت کا استعمال کر رہی ہے مارچ کے شرکاء پر آنسو گیس کی شدید شیلنگ کے ساتھ ساتھ تیزاب بھی پھینکا گیا مارچ کے شرکاء کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں کئی شہادتیں ہو چکی ہیں ،میڈیا بھی عوام کو درست حقائق نہیں بتا رہا مارچ کے شرکاء کے خلاف وزیر آباد میں بھی حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کا حکم جاری کیا گیا ہے لیاقت حسین کیس میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے کہ آرمڈ فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر سکتے عدالت حکومت کو مارچ کے شرکاء کے خلاف مزید طاقت کے استعمال سے روکے لال مسجد آپریشن کے دوران بھی میں نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر ہاتھ جوڑ کر آپریشن کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا کی تھی اگر اس وقت سپریم کورٹ حکم امتناعی جاری کر دیتی تو معصوم طلبہ و طالبات کا جانی نقصان نہ ہوتا میں نے لال مسجد آپریشن کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں پیش ہوکر کہا تھا کہ طلبہ و طالبات کے جانی نقصان کے ذمہ دار سپریم کورٹ کے وہ دو جج بھی ہیں کہ جنہوں نے آپریشن کے خلاف حکم امتناعی جاری نہیں کیا تھا آج بھی اس عدالت سے ہاتھ جوڑ کے استدعا کررہا ہوں کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء کے خلاف طاقت کے استعمال پر حکم امتناعی جاری کیا جائے اگر عدالت نے حکم امتناعی جاری نہ کیا تو کافی جانی نقصان ہوسکتا ہے تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء کا جائز مطالبہ ہے کہ فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے مارچ کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ اس متعلق فیصلہ کرے،پارلیمنٹ کا فیصلہ ہمیں قبول ہوگا

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں کہ قانون شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی بالکل اجازت نہیں دیتا جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ تکلیف دہ ہے ،ابھی تک سب کچھ پنجاب میں ہورہا ہے،پنجاب ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے معاملہ انسانی جانوں کا ہے،اس لئے ہم اس کیس کو دیکھیں گے

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تمام احکامات وفاقی حکومت جاری کررہی ہے ، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم پیر کو فریقین کو طلب کر لیتے ہیں ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پیر تک بہت دیر ہو جائے گی،حکم امتناعی کی درخواست پر آج آرڈر جاری کرنے کی استدعا ہے ، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ طارق صاحب!ہمیں صرف ایک دن دے دیں،ہم فریقین کو طلب کرکے رپورٹ لیتے ہیں

وکیل درخواست گزار کی جانب سے پٹیشن کے ساتھ دائر کی گئی حکم امتناعی کی متفرق درخواست پر آج احکامات جاری کرنے کے اصرار پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کچھ دیر تک مناسب احکامات جاری کرتے ہی

واضح رہے کہ مذکورہ پٹیشن گزشتہ روز شہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے حافظ احتشام احمد نے طارق اسد ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی تھی۔ پٹیشن میں وفاقی حکومت کو بذریعہ وفاقی سیکریٹری داخلہ،وزیراعظم کو بذریعہ پرنسپل سیکریٹری،وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اور پیمرا کو بذریعہ چیئرمین پیمرا فریق بنایا گیا ہے۔پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے خلاف آرمڈ فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا جائے پٹیشن میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء کے خلاف طاقت کے استعمال کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا حکم دیا جائے۔ پٹیشن میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء پر ریاستی تشدد کے متعلق حقائق جاننے اور ذمہ داروں کے تعین کے لئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز اور اچھی شہرت کے حامل علماء پر مشتمل جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔پٹیشن میں فریقین سے تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے خلاف طاقت کے استعمال کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں اور زخمیوں کے متعلق مکمل تفصیلات طلب کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔پٹیشن میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے خلاف طاقت کے استعمال کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے ورثاء کو دیت دینے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔پٹیشن میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے خلاف طاقت کے استعمال کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کو معاوضہ دینے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔پٹیشن میں متعلقہ اتھارٹی کو چیئرمین پیمرا کے خلاف فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے پر کاروائی کرنے اور تمام ٹی وی چینلز کو تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء کے خلاف غلط رپورٹنگ سے باز رہنے اور انہیں مارچ کی حقائق پر مبنی آزادانہ کوریج کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔پٹیشن میں تحریک لبیک کے قائدین و کارکنان سمیت تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء کے خلاف درج ہونے والی تمام ایف آئی آرز خارج کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

مذکورہ پٹیشن کے ساتھ حکم امتناعی کے لئے ایک متفرق درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔متفرق درخواست میں فریقین کو تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کے شرکاء کے خلاف مزید طاقت کے استعمال اور شہریوں کو گرفتار کرنے سے باز رہنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

@MumtaazAwan

تحریک لبیک کے کارکنان سڑکوں‌ پر نکل آئے،لاہور بند،ملک جام کرنیکا اعلان

کالعدم جماعت کی بھی لیگل ٹیم ہو سکتی ہے؟ سعد رضوی سے ملاقات نہ کروانے کی درخواست پرعدالت کے ریمارکس

سعد رضوی کی رہائی کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

سعد رضوی کی نظر بندی کیخلاف درخواست پر سماعت،عدالت نے کیا دیا حکم؟

سعد رضوی کی نظر بندی کیخلاف درخواست پر سماعت،دلائل مکمل

باغی ٹی وی سروے،تحریک لبیک پہلے نمبر پر،حافظ سعد رضوی کے حق میں سب سے زیادہ ووٹ

سعد رضوی کی رہائی میں نیا موڑ، اصل کہانی کیا، مبشر لقمان نے حقیقت بتا دی

تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو فوری رہا کرنے کا حکم

حافظ سعد رضوی کو رہا کیوں نہیں؟ سی سی پی او لاہور فوری طلب

سعد رضوی کی رہائی کیخلاف اپیل ،سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

حافظ سعد رضوی کی نظربندی، وفاقی نظر ثانی بورڈ کا اجلاس ،بڑا فیصلہ ہو گیا

کالعدم تنظیم کا سوشل میڈیا چلانے والوں کے خلاف آپریشن ،رات گئے گرفتاریاں