fbpx

جب تک بحریہ کا وجود ہے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ، ہم گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں، ڈاکٹر قادر مگسی

سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ جب تک بحریہ کا وجود ہے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ، ہم گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں، پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ ملک ریاض کے کارندوں نے بحریہ ٹائون میں آگ لگائی، اس میں ہائی پروفائل کیمیکل استعمال ہوا یہ وہی کیمیکل تھا جس سے بلدیہ فیکٹری اور کراچی کے وکلاء چیمبر کو نذرآتش کیاگیا تھا، ہماری زبان کٹ تو سکتی ہے لیکن بند نہیں ہوسکتی، اگر قومی قیادت سمیت کارکنوں کے خلاف درج مقدمات فوری واپس لے کر گرفتار رہنمائوں اور کارکنوں کو رہا نہ کیاگیا تو سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی پر احتجاج اور دھرنا دیں گے۔
وہ سندھ ترقی پسند ہائوس قاسم آباد پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر عبدالحمید میمن، حیدر شاہانی اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے آج منگل کو سندھ بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں اگر کسی کو گرفتار کرنا ہے تو وہ اپنا شو ق پورا کر لے، انہوں نے کہاکہ دھرنا میں کراچی جانے کیلئے پہلے تو رکائوٹیں ڈالی گئیں ، جگہ جگہ کارکنوں کو روک کر ہراساں کیا گیا اس کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں سندھ کے وارث کراچی میں بحریہ ٹائون پہنچے اور وہاں شدید گرمی میں بھی اپنا احتجاج ریکارڈکراتے رہے اس سے لوگوں کی تکلیف کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹائون اور اس کے اطراف 15 ڈی ایس پیز، 25 ایس ایچ اوز اور 1300 پولیس اہلکاروں کی نفری تعینات تھی، گذشتہ روز 2بجے انڈر پاس کی طرف سے شرارت ہوئی تو ہمارے رضاکاروں نے شرپسندوں کو پکڑا اور ان کی پٹائی لگائی ، انہوں نے کہا کہ اتنی نفری کے باوجود شرپسندوں کے خلاف پولیس حرکت میں نہیں آئی، ڈھائی گھنٹے تک شرپسند شرارت کرتے رہے انہیں کسی نے نہیں روکا،یہ ہائی پروفائل کیمیکل سے آگ لگائی گئی تھی یہ وہی کیمیکل تھا جس سے بلدیہ فیکٹری اور کراچی کے وکلاء چیمبر کو نذرآتش کیاگیا تھا، انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ بالکل بلائنڈ گیم کی طرح تھا تو پھر آفاق احمد اور خواجہ اظہارالحسن سامنے آگئے اور پھر بینفشری تو بحریہ ٹائون اور ملک ریاض ہوئے جبکہ ہم تو دفاع میں چلے گئے، ڈاکٹر قادر مگسی نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض کے کارندوں نے آگ لگائی ہے ، ہم پرامن تھے میری تقریر سے پہلے آنسو گیس اور فائرنگ شروع کردی گئی ، جلسے میں شرکت کرکے واپس جانے والے شرکاء کی دو بسیں تحویل میں لے کر ایف آئی آر درج کرلی گئی، انہوں نے کہاکہ میں پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ محترمہ کی شہادت کے بعد سندھ تین دن تک جل رہا تھا تو اس حساب سے ایف آئی آر آصف زرداری کے خلاف ہونی چاہے تھی، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ قادر مگسی اور جلال محمود شاہ و دیگر کو گرفتارکرنے پر یہ تحریک ختم ہو جائے گی تو یہ آپ کی بھول ہے، انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان توڑنے کی سیاست کا حصہ نہیں ہیں ہم جمہوری لوگ ہیں پاکستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں ، صنعان قریشی و دیگر کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف درج ایف آئی آر ختم کی جائے ، میرے خلاف پانچ ایف آئی آر درج ہوئی ہیں ، انہوں نے کہا کہ سندھودیش کے نعرے اور جھنڈے بحریہ ٹائون کے ڈرامے کے لوگوں نے استعمال کئے۔