fbpx

جب تک ہر ادارہ اور ہر شخص اپنا کردار ادا نہیں کریگا شہر کی ترقی نہیں کرسکتا، لئیق احمد

ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ شہر کی ترقی اور بہتری معیاری تعلیمی نظام سے وابستہ ہے، اب زمانہ روایتی مینجمنٹ کا نہیں رہا، جب تک ہر شخص اور ہر ادارہ شہر کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کرے گا اس وقت تک یہ شہر دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں شامل نہیں ہوسکتا، کراچی کی بہتری اور ترقی کے لئے سول سوسائٹی ،سماجی و فلاحی اداروں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں،ناصرہ اسکول نے مقامی سطح پر اعلیٰ معیار اپنا کر تعلیم کو فروغ دیااور یہ اسکول کراچی کے طالب علموں کا فخر ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناصرہ اسکول میں قائم وزیر علی میموریل ہال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سرمد جلال عثمانی، سابق وزیر مملکت شہناز وزیر علی، ڈائریکٹر ایجوکیشن منصوب احمد صدیقی اور عامر ایس فینسی نے بھی خطاب کیا، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ ملک وزیر علی نے کراچی میں اس وقت ناصرہ اسکول کا سنگ بنیاد رکھا جب وسائل سے محروم نوزائیدہ مملکت کو معیاری تعلیمی اداروں کی بے انتہا ضرورت تھی، آج بھی ناصرہ اسکول کا تعلیمی معیار بہت بلند ہے، اس اسکول سے ملک کی کئی نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کی اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے اداروں کی جانب سے حوصلہ افزاء نتائج ملے ہیں اوریہ امر اطمینان کا باعث ہے کہ کراچی کی بہتری اور ترقی کے خواہش مند تمام ادارے ایک پیج پر ہیں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ان تمام کاموں میں بھرپور معاونت فراہم کررہے ہیں جو شہر کی ترقی ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، شجر کاری اور باغات کے حوالے سے شروع کئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ منگھوپیر میں ان فلاحی و سماجی اداروں کے اشتراک سے 34 ایکڑ رقبے پر ہیلتھ سٹی بنانے کے خواب کو تعبیر دینے کی جانب پہلا قدم اٹھایا جاچکا ہے جبکہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کی غرض سے ری ہیبلی ٹیشن سینٹر بھی بنایا جا رہا ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے شہر کے تمام اداروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور صحت کے حوالے سے شہریوں کو جو بھی سہولت مہیا کرنا چاہیں کے ایم سی اس میں تعاون کے لئے تیار ہے، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر میں درختوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے شجر کاری کے حوالے سے جدید ترین طریقے اپنا رہی ہے جس میں میاواکی فارسٹ کا قیام شامل ہے اور اس مقصد کے تحت کراچی میں 300 میاواکی فارسٹ بنائے جا رہے ہیں جس سے شہر کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا، اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے قدیم درختوں کو بھی شہر کی زینت بنایا جا رہا ہے اور بتدریج کرونا کارپس کے درختوں کو ماحول دوست اور کراچی کے قدیم درختوں مثلاً نیم، پیپل، ناریل، کھجور، جنگل جلیبی، آم، امرود، جامن اور دیگر درختوں سے تبدیل کردیا جائے گا، قبل ازیں ایڈمنسٹریٹر کراچی نے ناصرہ اسکول میں قائم وزیر علی میموریل ہال کا فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا اور 1949ء میں قائم ہونے والے ناصرہ اسکول کی جدید لیبارٹری اور دیگر سہولیات کا معائنہ کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر مملکت اور منیجنگ ٹرسٹی ناصرہ اسکول شہناز وزیر علی نے کہا کہ ناصرہ اسکول کے قیام کا مقصد تعلیم عام کرنا تھا اور آج بھی ہم اپنے اس عزم پر قائم ہیں،تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کو ناصرہ اسکول کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔