جعلی اکاؤنٹس کیس،نیب کے گواہ پر جرح ،سماعت ملتوی

جعلی اکاؤنٹس کیس،نیب کے گواہ پر جرح ،سماعت ملتوی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ‏احتساب عدالت اسلام آباد میں جعلی اکاؤنٹس کے پنک ریذیڈنسی ریفرنس کی سماعت ہوئی

سماعت احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے کی ،‏ملزم عبد الغنی مجید کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی گئی ،‏نیب کے گواہ آصف سرکی کے بیان پر ملزم عبدالغنی مجید کے وکیل کی جرح ہوئی، نیب گواہ نے کہا کہ ‏گزشتہ ایک سال سے سب رجسٹرار گڈاب ٹاوَن میں تعینات ہوں، ‏پنک ریذیڈنسی سے متعلق اصل دستاویزات ریکارڈ سے پیش کی، ‏پنک ریذیڈنسی کی رجسٹری ایک کروڑ 85 لاکھ روپے میں 2017 میں ہوئی ،

وکیل صفائی نے کہا کہ جو دستاویزات آپ نے پیش کیے کیا یہ آپ نے بنائے ہیں، جس پر گواہ نے کہا کہ نہیں یہ ریکارڈ سکندر علی قریشی اینڈ ندیم بلوچ نے بنائے تھے، وکیل صفائی نے کہا کہ سب دستاویزات کو ایف بی آر سرٹیفائیڈ کرتا ہے،گواہ نے کہاکہ جی ایف بی آر ہی سرٹیفائیڈ کرتا ہے، وکیل صفائی نے کہا کہ ایف بی آر کے جو تصدیق شدہ دستاویزات ہیں کیا وہ کبھی نیب نے مانگے ہیں، جس پر گواہ نے کہا کہ نہیں وہ نیب نے کبھی بھی نہیں مانگے،

وکیل صفائی نے کہا کہ جب نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے کتنے لوگ تھے آپ کے ساتھ، گواہ نے کہا کہ میرے ساتھ ایک اور بندہ کامران سعیدموجود تھا،جو دستاویزات میں نے ابھی تک پیش کیے وہ درست ہیں،

عدالت نے کہا کہ پہلے گواہ پہ جرح ابھی مکمل نہیں ہوئی ،عدالت نیب کے ایک اور گواہ منور عالم صدیقی کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ،عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

واضح رہے کہ سال 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور بڑے بڑے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں، اس سلسلے میں ایف آئی اے نے ابتدائی طور پر معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب نے ملزمان سے اب تک 11 ارب 16 کروڑ روپے کی ریکوری کر لی گئی ،کراچی اسٹیل مل کی 10ارب 66کروڑکی اراضی ملزمان سے واپس لے لی،اراضی کراچی اسٹیل مل کو واپس بھی کر دی گئی،ایک اور ملزم سے پلی بار گین کی مد میں 48کروڑ روپے بھی وصول کئے گئے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.