جعلی صحافیوں کا ٹولہ جرائم اور چوری کی وارداتوں میں ملوث نکلا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جعلی صحافیوں کا ٹولہ جرائم اور چوری میں ملوث نکلا

ایس ایچ او تھانہ سکھن انسپکٹر رانا مقصود نے نہایت حکمت عملی اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے جعلی صحافیوں کا ٹولہ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا ،جعلی صحافی طارق علی بلیری المعروف بھتہ والی سرکار،
جعلی صحافی خالد زمان تنولی تھانہ سکھن میں گرفتار کر لئے گئے

پکڑے جانے والے ملزمان میں روزنامہ امت کا رپورٹر خالد زمان، قائدآباد کے بدنام بلیک میلر و بھتہ خور طارق علی بلیری المعروف بھتہ والی سرکار ، اشتیاق شاہ شامل ہیں، ملزمان اپنے دیگر ساتھیوں سمیت ملیر میں بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کرتے رھے، کئی شکایات کے باوجود ملزمان دندناتے پھرتے تھے ، گرفتار جعلی صحافیوں اشتیاق شاہ اور طارق علی بلیری کیخلاف گزشتہ ماہ اکتوبر 2020 میں بھی شاہ لطیف تھانے میں دبنگ ایس ایچ اؤ شاہ لطیف ٹاؤن انسپکٹر عبید اللّٰہ خان نے بھتہ انسداد دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا تھا، ملزمان ضمانت پر ہیں

ملزمان میں سے اشتیاق شاہ قائدآباد چند ماہ قبل تھانہ شارع فیصل میں بھی شراب سمیت پکڑا گیا تھا، قائد آباد میں پہلے PCO پھر موبائل ڈاون لوڈر کا کام کرتا تھا، پھر صحافتی لبادہ اوڑھ کر بلیک میلنگ کرتا رہا ہے۔ اشتیاق شاہ، قائدآباد ہی کا طارق علی بلیری نامی جعلی صحافی اور روزنامہ امت کا خالد زمان تنولی گینگ کی صورت میں وارداتیں کرتے چلے آرہے تھے، SSP ملیر آفس میں تعینات ایک سب انسپکٹر نور شیخ نے بھی ملزمان کیخلاف شکایت محکمہ پولیس کے سینئر افسران کو بھیجی تھی لیکن اسوقت کے SP ملیر طاہر نورانی نے سب انسپکٹر نور شیخ کو دباؤ میں لاکر ملزمان سے زبردستی صلح کروادی تھی ملزمان کا قیصر کالا نامی ساتھی بھی قائدآباد مدینہ کالونی سے اسکول کی آڑ میں بھتے، بلیک میلنگ و دیگر جرائم کا نیٹ ورک چلاتا ھے، یہ بھی گرفتار ہوکر جیل گیا تھا، آجکل ضمانت پر ھے، یہ بھی کئی مقدمات میں نامزد ملزم ہے

باخبر ذرائع کے مطابق ملزمان کی حالیہ گرفتاری تھانہ سکھن کے ہاتھوں عمل میں آئی، ملزمان بھینس کالونی سے 23 لاکھ سے زائد مالیت کے بوسٹن انجیکشن کی برآمدگی میں ملوث نکلے ، ایس پی SP ملیر آفس کا سعید نامی ڈرائیور نام نہاد جعلی صحافی طارق علی بلیری کے ساتھ پکڑا گیا،ملزمان کو روزنامہ امت کا رپورٹر خالد زمان تنولی کور دیا کرتا تھا ، ملزمان نے حالیہ واردات میں SP ملیر کا نام لیکر پولیس موبائل بھی استعمال کی،ملزمان SSP ملیر کی مداخلت پر پکڑے گئے، ورنہ بآسانی نکل جاتے ، ملزمان کا پورا گینگ ھے، سابق SP ملیر طاہر نورانی کی تعیناتی کے دوران ان کرمنلز کے حوصلے بڑھے، سابق SP ملیر کے دفتر میں ان کرمنلز کو باقاعدہ پروٹوکول دیا جاتا تھا

صحافی برادری کا کہنا ہیکہ ان جیسے جعلی اور قلم فروش حضرات کی وجہ سے فرض شناس صحافیوں کو بھی اپنے کام کو سرانجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،صحافی برادری نے جعلی صحافی طارق علی بلیری عرف بھتے والی سرکار اور خالد زمان تنولی کی گرفتاری پر ایس ایچ او سکھن انسپکٹر رانا مقصود کو نڈر بہادر کا لقب دے دیا سندھ پولیس کو ایسے ہی فرض شناس اور نڈر بہادر پولیس افسران کی ضرورت ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.