ورلڈ ہیڈر ایڈ

جھارکھنڈ ہجومی تشدد: تبریز کی بیوہ نے خودکشی کی دھمکی کیوں دی؟

جھارکھنڈ ہجومی تشدد معاملے میں شکار ہوئے تبریز انصاری کی بیوہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملزمان پر قتل کا مقدمہ نہیں درج کیا گیا تو وہ اپنی جان دے دیں گی۔ تبریز کی 24 سالہ بیوی شائستہ پروین نے ا ہل خانہ کے ساتھ ڈی سی اور ایس پی سے ملاقات کی اور تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت کیس چلانے کا مطالبہ کیا۔

ہجومی تشدد کے شکار تبریز انصاری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سب کو حیران کر دیا…. جانیے کیسے

شائستہ نے انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دفعہ 302 ہٹا کر دفعہ 304 کے تحت افسر نے غلط طریقے سے عدالت میں فرد جرم پیش کی ہے۔

دریں اثناء شائستہ پروین نے ایک درخواست دے کر کہا کہ تبریز انصاری کی موت گاوں والوں کے تشدد اور پولس و ڈاکٹروں کی لاپروائی کی وجہ سے ہوئی۔ ایسے میں آگے کی کارروائی کے لیے فیملی کو پوسٹ مارٹم، وِسرا اور ایس آئی ٹی رپورٹ کی ضرورت ہے۔ شائستہ کے بقول اس سلسلے میں وہ پہلے بھی درخواست دے کر رپورٹ کا مطالبہ کر چکی ہیں، لیکن وہ ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ 17 جون کی رات جھارکھنڈ میں تبریز انصاری پر چوری کا الزام لگا کر اسے پول سے باندھ دیا گیا اور رات بھر اس پر تشدد کیا جاتا رہا۔اس دوران اس سے ’جے شری رام‘ اور ’جے ہنومان‘ کے نعرے بھی لگوائے گئے۔ رات بھر تشدد کے بعد اگلے دن صبح اسے پولس کے حوالے کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.