fbpx

جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

جھوٹ اور سچ یہ عادتیں بچپن ہی سے سیکھائی جاتی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت ماں جو کرتی ہے بچے پر اس کے اثرات  ہوتے ہیں۔ ماں باپ جھوٹ کے عادی ہوں تو یقینا بجے بھی جھوٹ ہی بولیں گے۔ دیکھا جائے تو سچ یا جھوٹ، دھوکہ فریب  ہر قول و فعل ایک دوسرے کے اردگرد ہی گھومتے ہیں
حدیث شریف کا مفہوم ہے تمام گناہوں کی جڑ جھوٹ ہے
جھوٹ بول کر انسان دوسرے انسان کو چپ کروا سکتا یے
دوسرے انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے
دوسرے انسان کو اپنی چیز بیچ سکتا ہے
لیکن اللہ تعالٰی کے سامنے کیسے جھوٹ بولے گا
قول و فعل میں تضاد بھی جھوٹ ہے
اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور سچائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے۔ سچ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سچ کہا اور جھوٹ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جھوٹ کہا۔ سچ، نجات اور سکون کا باعث ہے اور جھوٹ، تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔جھوٹ بولنا انسان کو دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت سے بھی محروم کردیتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں اس کا اعتبار اور رتبہ ختم کردیتا ہے۔ اور انسان کو نا اتفاقی کے مرض میں مبتلا کردیتا ہے یہ زبان کی آفت اور ایمان کو مسمار کرنے کا  سبب بنتا ہے۔جھوٹ ہی تمام گناہوں کی جڑ ہے۔

 قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے
” جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ اور یہی لوگ جھوٹے ہیں”
( سوره النحل: 105)

جھوٹ کے متعلق کچھ احادیث:-

   سچ اور جھوٹ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ’’تم پر سچ بولنا لازم ہے، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے، اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے، جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
(صحیح مسلم: 6094)

   ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“
[صحيح بخاري حديث 6095]

جھوٹ بولنے سے انسان دوسرے انسانوں کی نظر میں تو گرتا ہی ہے ساتھ میں اللہ تعالٰی کے ہاں بھی سخت عذاب کا مستحق بھی ہو جاتا ہے

دنیا والوں سے تو جھوٹ بول کرنی چھپا سکتا ہے اللہ تعالٰی سے کیسے چھپائے گا
انسان جب ایک جھوٹ بولتا ہے تو اس کو چھپانے کے لیے اس کو دس جھوٹ اور بولنے کرتے ہیں

جھوٹ سے انسان اللہ تعالٰی کے ہاں بھی اور دنیا والوں کے ہاں بھی منہ دیکھانے لے قابل نہیں رہتا

مل کر معاشرے سے جھوٹ جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!