جھوٹی خبریں شائع کرنے پر برطانوی شاہی جوڑے نے لیا اخبارات کے خلا بڑا ایکشن

جھوٹی خبریں شائع کرنے پر برطانوی شاہی جوڑے نے لیا اخبارات کے خلا بڑا ایکشن
باغی ٹی وی کے مطابق برطانوی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن نے جھوٹ پر مبنی خبریں شائع کرنے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے چار برطانوی اخبارات کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔

ہیری اور میگھن نے اپنے ایک خط میں اخبارات کے ایڈیٹرز کو لکھا ہے کہ ریٹنگ کے چکر میں جھوٹی خبریں شائع کی جاتی ہیں اور اب مستقبل میں ان اخبارات کے صحافیوں سے نہ تعاون کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی رابطہ رکھا جائے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق برطانوتی شہزادے ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے کہا ہے کہ وہ برطانوی ٹیبلائڈ اخبارات کے ساتھ اب کوئی تعاون نہیں کریں گے۔ ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کے ایک ترجمان کی جانب سے ایسے تمام اخبارات اور ویب سائٹس کے مدیروں کے نام لکھے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ شاہی جوڑے نے یہ اقدام اس وجہ سے اٹھایا کہ ان کے بارے میں جھوٹی، من گھڑت اور خواہشات پر مبنی خبریں شائع کی گئیں۔ ان اخبارات میں روزنامہ سن، مرر، میل اور ایکسپریس نامی ٹیبلائڈ شامل ہیں۔

ہیری اور میگھن کے مطابق وہ ’کلک بیٹ‘ یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہتے۔ اعلیٰ شاہی منصب سے دستبردار ہونے کے بعد اس جوڑے نے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں رہائش اختیار کر لی ہے

کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

خط میں جوڑے کے تعلقات عامہ کے ترجمان نے لکھا ہے کہ جوڑے کو اس بات ہر شدید تشویش ہے کہ برطانوی میڈیا کا ایک حصہ ’من گھڑت، جعلی اور جارحانہ‘ خبریں شائع کر رہا ہے۔ خط کے مطابق ایسا کرنے کی ایک انسانی قیمت بھی ہوتی ہے اور ایسا دھندا معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ ڈیوک اور ڈچز نے کہا کہ انھوں نے صرف اشتہاروں کی دوڑ میں آگے نکلنے کے لیے چھاپی گئی خبروں کی وجہ سے اپنے عزیزوں اور اجنبیوں کی زندگیاں تباہ ہوتے دیکھی ہیں۔

گارڈین اخبار کے ایڈیٹر جن واٹرسن کے مطابق شاہی جوڑے کی نئی پالیسی کا اطلاق چار اخبارات، ان کے سنڈے کے ایڈیشنز اور اور ان کی ویب سائٹس پر ہوگا۔ ڈیلی سٹار کے خط میں واضح طور پر ذکر شامل نہیں ہے مگر یہ بھی اسی گروپ کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے جو دی مرر اور ایکسپریس کے نام سے اخبارات شائع کرتا ہے۔ اس پابندی کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب ہیری اور میگھن کی تعلقاتِ عامہ کی ٹیم جوڑے سے متعلق کسی بھی خبر کی تصدیق یا تردید کے لیے ان اخبارات کی طرف سے کی جانے والی فون کالز کا جواب بھی نہیں دے گی

خط میں ان اخبارات کے ساتھ ’عدم تعاون اور قطع تعلقات‘ کی نئی پالیسی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد جوڑے کے سٹاف کو ان اخباروں کے خطرناک اثرات سے بچانا بھی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد تنقید سے بھاگنا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ذریعے عوامی آرا کا گلا دبایا جائے گا اور نہ ہی سچی صحافت پر قدغن لگائے جائیں گے۔

ان کے مطابق یہ میڈیا کا پورا حق ہے کہ وہ ڈیوک اور ڈچز سے متعلق اچھی یا بری رائے رکھیں، مگر اس کی بنیاد جھوٹ پر نہیں ہو سکتی۔ خط کے مطابق جوڑا دیگر میڈیا اور نئے آنے والے نوجوان صحافیوں کے ساتھ مل کر مختلف مسائل اور جوڑے کی دلچسپی کے امور سے متعلق آگاہی کے لیے کام کرتا رہے گا۔

یاد رہے کہ میگھن پہلے سے ہی میل آن سنڈے کے پبلشر کے خلاف عدالت میں مقدمہ لڑ رہی ہیں۔ میل نے میگھن کے والد، جن کے اپنی بیٹی سے تعلقات کشیدہ ہیں، کا میگھن کو لکھا گیا ایک خط ان کی اجازت کے بغیر شائع کر دیا تھا جس کے بعد میگھن نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔ برطانوی اخبارت سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان اس ہفتے عدالتی کارروائی سے پہلے کیا گیا ہے

برطانوی شہزادوں سے شہزادیاں کیوں مایوس ہوکرطلاقیں لے رہی ہیں‌، اہم وجہ نے شاہی خاندان کو ہلا کررکھ دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.