fbpx

جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

آج کے پر فتن دور میں ہر روز اک نیا سکینڈل ایک نئ ویڈیو منظر عام پر آ رہی ہے۔ گرل فرینڈ کلچر کے نتائج ہسپتالوں میں نومولد کی لاشیں ڈال رہے ہیں تو کبھی ابارشن کے غیر قانونی طریقے اپنانے کے بعد لڑکیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔

کبھی 4 سالہ معصوم بچے بچیاں اس ہوس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کبھی ہم جنس پرستی کا عفریت اس معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ہر طرف نوجوانوں کی ہوس کے شکار ہونے والے سہمے پڑے ہیں ہر انگلی اس نوجوان نسل کی طرف اٹھ رہی ہے ۔ ان لوگوں کی طرف کیوں نہیں جن کی ذمہ داری تھی اس نسل کی تربیت کرنا؟ کیا وہ اس سب سے مستثنٰی ہیں؟؟؟
میرے ذاتی خیال میں سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ جنہوں نے اولاد کی لگثریز کی ذمہ داری تو اٹھا لی مگر تربیت بھول گئے۔ اور اگر تربیت کر بھی دی تو انکے وقت پر نکاح بھول گئے۔۔۔ بارہ سال کی عمر میں جوان ہونے والے بچے اپنی جنسی ضروریات کو کب تک دبایئں گے ؟ کیسے کنٹرول کریں گے جبکہ انکے ہاتھ میں موبائل اور صرف ایک کلک پر پورن کا ڈھیروں ڈھیر مواد موجود ہوگا؟؟ کالج یونیورسٹی تک پہنچتے جب انکو گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈر میسر ہو جایئں گے۔ اور جب والدین انکی تعلیم اور جاب کا انتظار کرتے ہوئے انہیں نکاح کے بندھن میں نہیں باندھیں گے تب وہ ایسے خود ساختہ بندھن خود بناتے جائیں گے۔۔ 100 میں سے 99 جوان اس مرحلے میں بھی خود پر قابو پا لیں اگر تب بھی باقی 1 جوان پھر بھی خطرہ رہے گا اس اپنی جنسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئ ایسا رشتہ ڈھونڈے گا نہ ملنے پر آسان میسر ٹارگٹ کو ریپ کرے گا۔۔

اگر کوئ بچی/بچہ اپنی پسند بتا دے اور نکاح کرنا چاہے تب بھی یہی والدین ذات پات اونچ نیچ کے چکر میں اپنی انا کا پرچم بلند کر کے اس حق سے محروم کر دیتے ہیں ذہنی اذیت تو جو گزرتی ہے ان بچوں پر وہ الگ کہانی مگر جس جنسی اور جسمانی ضرورت کو اس سے روک لیا جاتا ہے وہ الگ سے اثر انداز ہوتی ہے ۔۔ اکثر نشے کی لت میں پڑ کر اپنی زندگی برباد کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس اس سب کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ 14 سال کی عمر میں جوان ہونے والے 32 سال تک بنا کسی پارٹنر کی کیسے رہ رہے ہیں اس بات کا اندازہ کیوں نہیں لگایا جاتا؟
سب قصور انہی کی طرف کیوں نکلتے ہیں۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ رض کی شادی کم عمری میں کیوں کی گئ؟ تاکہ امت کو پیغام ملے ۔۔ مردوں کے لیے دو تین اور چار شادیوں کی اجازت دی گئ۔ مطلقہ و بیواوں سے نکاح کی تلقین کی بلکہ نبیﷺ نے خود کر کے مثال قائم کی ۔۔ نکاح کو آسان ترین بنایا گیا یہ سب کس کے لیے کیا گیا تھا؟ اسی بے راہ روی کو روکنے کے لیے لیکن آج ہم نے یہ سب چھوڑ دیا اور نتائج ہم بھگت رہے ہیں اور مزید تب تک بھگتیں گے جب تک یہ سب ہم اپنے معاشرے میں رائج نہ کر لیں۔۔۔ بلاشبہ نوجواں نسل اس کی ذمہ دار ہے مگر پہلا قدم والدین کو اٹھانا ہو گا

‎@NiniYmz