fbpx

جو بھی فورم کسی کو بلاتا ہے تو احتراما جانا چاہیے،عدالت

جو بھی فورم کسی کو بلاتا ہے تو احتراما جانا چاہیے،عدالت

اسلام آباد ہائیکورٹ میں اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ سے نکلوانے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کی ہدایت کی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ عدالت کوئی غیرقانونی کام نہیں کر سکتی تو کوئی بھی نہیں کر سکتا،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ میں کیسے ڈال سکتی ہے؟ یہ عدالت پہلے بھی کہہ چکی کہ ا سٹاپ لسٹ کے پیچھے کوئی قانون موجود نہیں، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ا سٹاپ لسٹ (پی آئی این ایل) بنائی گئی تھی،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کسی قانون کے تحت بنانے کا حکم دیا ہو گا، اعظم خان سرکاری افسر ہیں وہ کونسا بھاگ کر جا رہے ہیں، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اعظم خان کو کئی بار بلانے کے باوجود پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا مخصوص اختیار ہے کیا وہ اس میں جا سکتی ہے؟ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اعظم خان کو کس معاملے میں طلب کیا تھا؟ وکیل نے کہا کہ اعظم خان کو طیبہ گل کیس میں طلب کیا گیا تھا،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا طیبہ گل کیس کے دیگر ملزمان کا نام بھی اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے مالم جبہ کیس میں اعظم خان کو طلب کیا، عدالت نے کہا کہ اس عدالت سمیت ہر ایک قانون کا پابند ہے، جو بھی فورم کسی کو بلاتا ہے تو احتراما جانا چاہیے، وکیل نے کہا کہ اعظم خان کی بیرون ملک سے واپسی کے بعد بلانے پر پیش ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خود کو شرمندہ نہ کریں، پی این آئی ایل کا کوئی لیگل ا سٹیٹس نہیں،ایسی کوئی وجہ نہیں کہ نام پی این آئی ایل میں شامل کیا جائے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اعظم خان کی 8 ستمبر کو روانگی اور 25 ستمبر سے پہلے واپسی ہے،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اس سے پہلے بھی پیش ہو سکتے ہیں، عدالت نے کہا کہ اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اعظم خان کو 8 ستمبر سے پہلے بلاتی ہے تو وہ پیش ہو جائیں،اعظم خان کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی، وکیل اعظم خان نے کہا کہ کیا ان کو بلانا صرف شرمندہ کرنا ہے یا واقعی کچھ پوچھنا ہے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعظم خان کو اگر پارلیمنٹ میں طلب کیا گیا تھا تو انہیں جانا چاہیے تھا، عدالت نےعمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا نام پی این آئی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بلائے تو اعظم خان پیش ہو جائیں،

چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف