ورلڈ ہیڈر ایڈ

جو مرضی ہو جائے کسی کو این آر او نہیں دینا، وزیراعظم کا ایک بار پھر دبنگ اعلان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طورخم بارڈر ایریا سے وسطی ایشیائی ریاستیں بھی مستفید ہوں گی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طورخم بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ٹریڈ زیادہ ہونے سے اس علاقے کی زندگیاں بدل جائیں گی، علاقے میں تبدیلی آ‌جائے گی، پاکستان اور خاص طور پر پختونخواہ کو فائدہ ہو گا، روزگار سب کو ملے گا، جیسے ہی کھولا تجارت میں 50 فیصد اضافہ ہوا، سہولیات بہتر ہوئیں تو علاقے میں خوشحالی آئے گی.

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا رویہ سنجیدہ نہیں، کشمیر کے لئے پارلیمنٹ کا سیشن منایا گیا لیکن اپوزیشن نے یکجہتی نہیں کی ، ان کا ایجنڈہ ہے کہ این آر او دیا جائے، وہ بلیک میل کرنا چاہتے ہیں کہ میں پریشر میں آؤں اور مشرف کی طرح این آر دوں ،پچھلے دس برسوں میں 24 ہزار ارب قرضہ دو این آر او کی وجہ سے ہوا، جب وہ واپس آئے تو اور زیادہ قرضہ چڑھا، جو بلیک میل کر رہے ہیں ان کے دور کے کیسز ہیں.

وزیراعظم نے طورخم بارڈر24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ جو مرضی ہو جائے، کسی کو این آر او نہیں دینا، انہوں نے بے دردی سے ملک کو لوٹا، مہنگائی نواز شریف و زرداری کی وجہ سے ہے.

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک کرنے ہیں جب تک امن نہ ہو معاشی حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، خیبر پختونخواہ دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوا ہے، پاکستان کو امن کی ضرورت ہے، ہمسایوں سے تعلقات بہتر کریں یہ ہماری خواہش تھی، افغانستان سے اچھی بات چیت ہوئی، تعلقات بہتر کیے، مذکرات میں رکاوٹ آنا بدقسمتی ہے، ہم پورا زور لگائیں گے کہ مذاکرات ہوں اور امن ہو.

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت کے اوپر قبضہ ہو گیا ہے، دنیا کے معاشرے میں ماڈریٹ لوگ ہوتے ہیں، بھارت پر ہندووں کا قبضہ ہو گیا ہے، انتہا پسند ذہبن کی کشمیر میں 45 دن کرفیو رکھ سکتا ہے، آر ایس ایس کی پالیسی مسلمانوں سے نفرت کی ہے، بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں سے جو کچھ ہورہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہاں نارمل حکومت نہیں، جب تک خصوصی حیثیت والا قانون نہیں اٹھاتے بات چیت نہیں ہو گی. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کی آواز اٹھاؤں گا

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی پاکستان سے بھارت جا کر کشمیر کے لئے لڑے گا یا جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں سے دشمنی کرے گا، انہوں نے 9 لاکھ فوج رکھی ہوئی ہے ان کو بہانہ چاہئے، وہ کہتے ہیں کہ کشمیری ہمارے ساتھ ہیں پاکستان لوگ بھیج رہا ہے، اگر یہاں سے کوئی بھی گیا تو بھارت کو موقع مل جائے گا اور وہ دنیا کے سامنے واویلا کرے گا کہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ خراب رہا ہے، 1965 کے بعد پہلی بار کشمیر پر سلامتی کونسل میں بات ہوئی. اگر کسی نے یہاں سے کوئی حرکت کی تو وہ پاکستان اور کشمیر کا دشمن ہو گا

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ گھوٹکی میں جو ہو گیا وہ جان بوجھ کر کیا گیا مذمت کرتا ہوں ،اقوام متحدہ میں جانا ہے ایسے وقت میں جان بوجھ کر کیا گیا، اقلیتیں برابر کی شہری ہیں اور رہیں گی.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.