جوبائیڈن کے آنے سے سعودی عرب کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں

جوبائیڈن کے آنے سے سعودی عرب کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کا سعودی عرب کے حوالہ سے بیان سامنے آیا ہے جو پرانا ہے جس سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دن سعودی عرب کے لئے سخت ہیں

جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکہ کی سعودی عرب کے حوالہ سے پالیسی بدلے گی یا نہیں اس حوالہ سے جوبائیڈن کی ایک رپورٹ کو اہمیت دی جا رہی ہے ،خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن کی سعودی عرب کے حوالہ سے پالیسی تبدیل ہو گی

جوبائیڈن سعودی حکمرانوں کے سخت خلاف ہیں،جوبائیڈن کی جیت کے بعد محمد بن سلمان کے اقتدار کو خطرہ نظر آ رہا ہے،جوبائیڈن نے جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار محمد بن سلمان کو قرار دیا تھا،یمن میں انسانی حقوق کی پامالی ، بجوں کے قتل کاذمہ داربھی سعودی عرب کو قرار دیا گیا تھا

رپورٹ کے مطابق ایران کے حوالے سے جوبائیڈن نرم دل ایران سے پابندیاں ہٹالیں گے .سعودی عرب پردباوبڑھانے کے لیے پابندیوں کی دھمکیوں کی آڑ میں بڑی بڑی تبدیلیاں کروائی جائیں گی ،سعودی عرب کو اسلحے کی فراہم روک دی جائے گی سعودی عرب کے قدیم اسلامی نظام حکومت کوخطرات درپیش ہوں گے

سعودی عرب میں محمد بن سلمان کے اقتدارکوجوبائیڈن پسند نہیں کرتے ، محمد بن سلمان کے ساتھ کوئی بھی سانحہ ہوسکتا ہے ،جوبائیڈن سعودی عرب ، امارات ، مصر اور ایسے ہی دیگر سعودی حمایتیوں کے لیے بھی سخت پالیسیاں لانا چاہتے ہیں

جوبائیڈن نیا سعودی عرب چاہتے ہیں ، دوصورتیں ہوں اگرسعودی عرب دباو میں آگیا تو رہی سہی کسر بھی سعودی معاشرے کی ختم ہوجائے گی اوراس صورت میں سعودی عرب میں بغاوت ہوگی ،اگرمحمد بن سلمان جوبائیڈن کی بات نہیں مانیں گے تو پھر خود محمد بن سلمان بدلے جائیں گے ،سعودی عرب پراگلے آنے والے دنوں میں سخت پابندیا ں لگنے کا بھی امکان ہے جبکہ جمال خشوگی کے قتل کامعاملہ پھر اٹھا دیا جائے گا

دوسری جانب ایک خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں جیت اور کامیابی کے لئے اربوں ڈالر صرف کئے جو سب ضائع اور برباد ہوگئے ہیں۔ یمن کی اعلی کونسل کے سربراہ احمد حامد نے امریکہ کی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ٹرمپ کی جیت کے سلسلے میں بڑا سرمایہ لگایا تھا جو ٹرمپ کی شکست کے نتیجے میں ضائع‏ اور برباد ہوگیا ہے ۔

احمد حامد نے کہا کہ ہمارے نزدیک ٹرمپ اور بائیڈن میں کوئی فرق نہیں دونوں صہیونیوں اور اسرائیل کے حامی ہیں، لیکن سعودی عرب ، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابات میں جیت کے لئے سرتوڑ کوشش کی اور سرمایہ لگایا نیزاسرائیل کی غاصب صہیونی حکومت کو بھی تسلیم کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر بھی خرچ کئے لیکن ٹرمپ کو پھر بھی شکست ہوگئی۔ٹرمپ کی شکست کا یہ مطلب نہیں کہ بائیڈن اچھا ہے بائیڈن بھی صہیونیوں کا حامی اور طرفدار ہے اور اسلام و مسلمانوں کا چھپا ہوا دشمن ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا کے نومنتخب صدر جوزف بائیڈن اور ان کی ساتھی نومنتخب نائب صدر کمالا ہیرس کو صدارتی انتخابات میں جیت پر اتوار کے روز مبارک باد دی تھی ،

امریکا میں گذشتہ منگل کے روز منعقدہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوزف بائیڈن نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست سے دوچار کیا ہے اور وہ امریکا کے چھیالیسویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔جوبائیڈن کی ساتھی امیدوار کمالاہیرس امریکا کی پہلی خاتون نائب صدر منتخب ہوئی ہیں ۔انھوں نے ٹرمپ کے ساتھی امیدوار مائیک پینس کو شکست سے دوچار کیا ہے۔وہ امریکا کی پہلی سیاہ فام اور جنوب ایشیائی نژاد خاتون نائب صدر بھی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.