fbpx

ٹیرارزم سے ٹورازم تک کا سفر ۔۔

9/11 کے بعد جنوبی ایشیا کے حالات بالعموم اور پاکستان کے حالات باالخصوص تبدیل ہوتے گئے۔ دنیا کی نظریں اس تبدیلی کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کے حالات پر ٹکی رہی۔

دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے اور قریبی ہمسایہ ملک افغانستان میں بیک وقت نیٹو امریکہ بھارتیوں سمیت کل ملا کر 50 کے قریب پراکسیز کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں اگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پہلے قبائل اور پھر پشاور سے ہوتے ہوئے دہشت گردی کا یہ ناسور پورے ملک میں سرائیت کر گیا۔ 

یہ ناسور اس قدر خطرناک تھا کہ ایک وقت میں پشاور میں لوگ خودکش اور بم دھماکوں کو گنتے تھے کہ اج کے دن ایک ہی روز میں 7 سے 8 دھماکے ہوتے گئے۔۔ حتی کہ کرکٹ جسے جینٹلمین کھیل کہا جاتا ہے اسکو بھی نا بخشا گیا اور سری لنکن ٹیم کی بس پر حملہ کر کے پاکستان کو پوری دنیا میں دہشت گردی کا گڑھ بنا دیا۔۔

دہشت گردی کے اس بھیڑیے نے پاکستان کو دنیا کے لیے نو گو ایریا بنا دیا جس کی وجہ سے دنیا پاکستان انے سے کتراتی رہی اور یوں سیاحت پاکستان میں نا ہونے کے برابر ہوئی۔۔

ِبھلا ہو ہماری عوام کا ہماری فوج کا ہماری عسکری نیم عسکری اداروں کا تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کا حکومت وقت کا جنہوں نے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا مصمم ارادہ کر کے 70 ہزار جانوں کا نزرانہ پیش کر کے بالاخر اس ناسور کو تقریباً ختم کردیا

 اور دنیا میں پاکستان کے بارے میں لوگوں کا خیال رفتہ رفتہ بدلنے لگا۔ 

سب سے اچھا اقدام پی ایس ایل کا پاکستان میں انعقاد ہوا جس سے دنیا کو دہشت گردی کا خوف ختم کرنے میں بہت مدد ملی۔ اسکے بعد برطانوی جوڑے کا پاکستان کا دورہ کرنا بھی سیاحت کے فروغ کا باعث بنا۔

پاکستان ایک زرخیز اور 4 موسم رکھنے والا ملک ہے

 جہاں دنیا کا اٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کے سرسبز و شاداب پہاڑ ، کشمیر کی قدرتی حسن سے مالا مال وادیاں  اور خیبر پختونخواہ کا حسن، سیاحوں کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔

 ساتھ ہی ساتھ موجودہ حکومت کی سیاحت میں دلچسپی کے باعث ایک بار پھر سے سیاحت نے انگڑائی لی اور مقامی افراد سمیت دنیا نے ان علاقوں کا رخ کرنا شروع کیا اور یوں دہشت گردی کے کالے سائے چھٹ کر سیاحت کا ایک درخشاں اور تابناک مستقبل سورج نمودار ہوا۔

اس عید الاضحی پر ایک سروے رپورٹ کے مطابق سیاحت کے شعبے میں 28 لاکھ عوام نے شمالی علاقہ جات کا رخ کیا جہاں انہوں نے 23 ارب سے زیادہ روپے خرچ کیے۔ 

یہ نوید ہے کہ پاکستان میں سیاحت پاکستان کی معیشت میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاحت کے لیے مزید اقدامات کرے تاکہ نا صرف اندرونی سیاح بلکہ بین الاقوامی سیاح بھی مزید بڑی تعداد میں اکر سیاحت کو فروغ دیں۔

اخر میں سلام پیش کرتا ہوں پاکستانی عوام کا پاک فوج کا سیکیورٹی ایجنسیوں کا شہدا کا، جنہوں نے ٹیرارزم سے ٹورازم تک کے سفر میں بے شمار قربانیاں دے کر ہمیں اج اس قابل بنایا کہ ہم دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہیں۔۔

@Goharspeaks