fbpx

جوہر ٹاؤن دھماکہ "را” کے ملوث ہونے کے ثبوت،دو مزید ملزمان گرفتار،ڈیوڈ بارے اہم انکشافات

جوہر ٹاؤن دھماکہ "را” کے ملوث ہونے کے ثبوت،دو مزید ملزمان گرفتار،ڈیوڈ بارے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جوہر ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہیں.،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں جوہر ٹاؤن دھماکے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کر دی گئی

اجلاس میں پنجاب میں امن عامہ کی صورتحال اوردیگرمعاملات کا جائزہ لیا گیا ،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے جوہر ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات پر اطمینان کا اظہارکیا وزیراعلیٰ عثمان بزدار کینے تحقیقات کو سا ئنٹفک اندازسے آگے بڑھانے کی ہدایت کی وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ جوہر ٹاوَن دھماکے میں ملوث دہشت گرد سزاکے حقدار ہیں ،

دوسری جانب جوہر ٹاؤن دھماکے کے الزام میں گرفتار ڈیوڈ سے رابطے میں رہنے والے دو مزید افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،دھماکے میں استعمال گاڑی لینے والے شخص کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں ،ڈیوڈ سے رابطے میں رہنے والے دو ملزمان میں سے ایک کو لاہور اور دوسرے کو خیبر پختونخواہ سے پکڑا گیا گیا ہے، دھماکے میں استعمال کار کو بابو صابو پر چیک کرنے والے پولیس اہلکار کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا ہے

گرفتار ملزم ڈیوڈ پال کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ کراچی کے علاقے محمود آباد کا رہائشی ہے رات گئے ڈیوڈ پال کے گھر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ بھی مارا گھر کی تلاشی کے دوران چند دستاویزات قبضے میں لی گئی ہیں تا ہم کوئی گرفتاری نہیں کی گئی،ابتدائی تحقیقات کے مطابق پیٹر پال ڈیوڈ بحرین میں سکریپ اور ہوٹل کا کاروبار کرتا ہے، ملزم ڈیڑھ ماہ پہلے بحرین سے کراچی پہنچا تھا۔ ڈیوڈ نے ڈیڑھ ماہ کے دوران 3 بار لاہور کا دورہ کیا اور 27 دن مقیم رہا ملزم کے لاہور میں قیام کے دوران مختلف افراد سے رابطوں کے شواہد ملے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکے میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں تفتیشی ٹیموں کو جوہر ٹاؤن دھماکے میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت مل گئے ہیں جن سے پتہ چلا کہ دھماکے کی فنڈنگ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے کی گئی تھی جب کہ شواہد کی روشنی میں دھماکے میں ملوث ایک شخص کے علاوہ ماسٹر مائنڈ اور تمام سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے

دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی ڈرائیور نے پار کی اور اسکے بعد چوک یتیم خانہ جہاں گاڑیوں کے اڈے ہیں وہاں گیا اور کسی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوا، پولیس نے اس ضمن میں اڈوں سے بھی ریکارڈ لے لیا ہے

واضح رہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 23 جون کو دھماکہ ہوا تھا اسی علاقے میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ بھی قائم ہے ،جوہرٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکے کا ایک اور زخمی جناح ہسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد بم دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد چار ہوگئی ہے ایدھی حکام کے مطابق بم دھماکے میں زخمی ہونے والا 40 سالہ مظہر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا مظہر بی آر او سوسائٹی میں واقع گھر میں مالی کا کام کرتا تھا اور شیر شاہ کالونی کا رہائشی تھا۔

قبل ازیں دھماکے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی لاہور تھانے میں انسپکٹر عابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں 7 اے ٹی اے، 3/4ایکسپلوزو ایکٹ سميت دیگر دفعات شامل ہیں۔درج ایف آئی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کارروائی میں گاڑی اور موٹر سائیکل استعمال کیں۔ مقدمے کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 3افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوئے۔ مقدمے میں 3 نامعلوم دہشت گردوں کا ذکرکیا گیا ہے۔

جوہر ٹاون دھماکہ کیسے ہوا ؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آ گئی

جوہر ٹاون دھماکہ حافظ محمد سعید کی رہائشگاہ کے قریب ہوا؟ حقیقت سامنے آ گئی،

جوہر ٹاون دھماکہ۔ زخمیوں کے نام سامنے آ گئے ۔اموات میں اضافہ

لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے میں پڑوسی ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت سینئر صحافی سامنے لے آئے

لاہور میں دھماکہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ، شہباز شریف

دہشت گردی کے کتنے تھریٹ ملے تھے؟ لاہور دھماکے کے بعد آئی جی کا انکشاف

جوہرٹاون دھماکہ:تحقیقاتی ادارے ملزم کے قریب پہنچ گئے،

جوہرٹاؤن دھماکہ؛ بارود سے بھری گاڑی کا مالک کون؟بارود کہاں نصب کیا گیا اورگاڑی کیسے پہنچی؟تہلکہ خیزانکشافات 

لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا

جوہر ٹاؤن دھماکہ،تحقیقات میں زبردست کامیابی حاصل کر لی، شیخ رشید