مبینہ ویڈیو سیکنڈل، جج ارشد ملک کو ہٹانے کا فیصلہ

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے وزارت قانون و انصاف کو خط لکھ دیا ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ جج ارشد ملک کو ویڈیو آںے کے بعد ہٹایا جائے.

ن لیگ کی طرف سے جاری ویڈیو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں: مراد سعید

ویڈیو کے بعد نواز کی سزا ختم ہو چکی، مزید ویڈیوز بھی موجود ہیں، عباسی

 

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو اپنی صفائی میں خط لکھا تھا، ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق جج ارشد ملک کی جانب سے بیان حلفی بھی ہائیکورٹ میں جمع کرادیا گیا،ارشد ملک نے اتوار کو جاری پریس ریلیز کو بھی خط کے ساتھ منسلک کیا،جج احتساب عدالت محمد ارشد ملک کی جانب سے وڈیو الزامات کی تردید کی اور کہا کہ مجھے بلا وجہ بدنام کیا جا رہا ہے .

خط کا جائزہ لینے کے بعد احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جج ارشد ملک اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز سے ملاقات کرنے کے لئے سرکاری گاڑی کی بجائے پرائیویٹ گاڑی پر آتے تھے .

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت قانون کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جج ارشد ملک کی خدمات واپس لی جائیں، وزارت قانون نئے جج کی تقرری کا فیصلہ کرے گی، جج ارشد ملک وزارت قانون کے ماتحت ہیں۔ ترجمان ہائیکورٹ کے مطابق ہائیکورٹ براہ راست جج ارشد ملک کیخلاف انکوائری نہیں کرسکتی، جج کی تقرری اور ہٹانے کیلئے چیف جسٹس ہائیکورٹ کی مشاورت ضروری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ جج ارشد ملک کو واپس وزارت قانون بھیج رہی ہے، انکوائری ہائیکورٹ نے کرنی ہے یا وزارت نے ؟ فیصلہ وزارت قانون کریگا۔

 

بچہ بچہ سمجھتا ہے،ویڈیو کے بعد سچ باہرآ گیا ،خورشید شاہ

جج صاحب تھینک یو ویری مچ، آپ نے ویڈیو کا انکار نا کر کے اس کی تصدیق کر دی، مریم نواز

واضح رہے کہ مریم نواز نواز شریف کو سزا دینے والے جج کی مبینہ ویڈیو کچھ دن قبل میڈیا کے سامنے لائی تھیں ، ویڈیو آنے کے بعد پاکستانی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے ،حکومت نے اس ویڈیو کو جھوٹا قرار دیا جبکہ جج ارشد ملک نے بھی پریس ریلیز جاری کر کے تردید کی. جس میں کہا گیا کہ ویڈیوزمیں مختلف موضوعات پرکی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑکرپیش کیا گیا ہے. ناصر بٹ اور اسکا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مجھ سے بے شمار بار ملتے رہے ہیں، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی،

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کر دیا۔ نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کے ساتھ دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی اور ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا. یہ فیصلہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دیا تھا.

واضح رہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے طبی بنیادووں‌پر نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی لیکن اس کے بعد ضمانت میں توسیع نہیں ہوئی، نواز شریف نے طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.