fbpx

سیلاب متاثرین کیلئے قائم بحالی کمیٹیاں،ججزکوسربراہی سے ہٹا دیا گیا

سیلاب متاثرین کیلئے قائم بحالی کمیٹیاں،ججزکوسربراہی سے ہٹا دیا گیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے قائم شہری کمیٹیوں کی سربراہی سے ججزکو ہٹا دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ ( Flood 2022 ) متاثرین کی بحالی کيلئے کمیٹیاں قانون کے مطابق کام جاری رکھیں گی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے منگل 17 جنوری کو سیلاب متاثرین کی بحالی کيلئے بنائی گئیں نگراں کمیٹیوں کیخلاف درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔

اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سندھ حکومت کی درخواستوں کو جزوی طور پر منظور بھی کرلیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بحالی اور نگرانی کيلئے شہری کمیٹیوں میں خواتین کو بھی شامل کیا جائے، جب کہ سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین کو طبی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر

عدالتی حکم میں شہری کمیٹیوں کو ریلیف آپریشنز میں ہدایات اور کنٹرول کرنے سے روک دیا گیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ شہری کمیٹیاں متاثرین کی بحالی کيلئے اداروں کیساتھ مل کر کام کریں، جب کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) ہر 2 ہفتوں بعد سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کرائے۔ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے سول ججز کو شہری کمیٹیوں کا سربراہ تعینات کیا تھا، جس پر سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کيا تھا۔ سندھ حکومت کے مطابق عدالت کا آرڈر ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت ہے۔

دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبدالطیف آفریدی کے قتل کوبڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عبدالطیف آفریدی بہت بڑی شخصیت تھے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل افتخارگیلانی سے استفسار کیا کہ کیا لطیف آفریدی کا تعلق کوہاٹ سے تھا؟ ۔

جس پر وکیل افتخار گیلانی نے بتایاکہ لطیف آفریدی کا تعلق فرنٹیئرریجن سے تھا، جنہیں گزشتہ روز بار روم میں قتل کیا گیا اس واقعہ نے رنجیدہ کردیا ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لطیف آفریدی کا قتل افسوسناک واقعہ ہے،عبدالطیف آفریدی بہت بڑی شخصیت تھے ۔