ورلڈ ہیڈر ایڈ

ججز ریفرنس کی سماعت، وکلاء برادری کل یوم سیاہ منانے پر تقسیم

ججزریفرنس کی کل 2 جولائی کو سماعت ہو گی جبکہ وکلا برادری یوم سیاہ منانے کے حوالہ سے تقسیم نظر آتی ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وکلاء برادری حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف بدنیتی کی بنیاد پر دائر ریفرنسزکی سماعت کے موقع پر یوم سیاہ منائے گی، بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی جائیں گی اور بار رومز پر سیاہ جھنڈے لہرائے جائیں گے.

امان اللہ کنزانی کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے موقع پر کل 2 جولائی کو عدلیہ سے اظہار یکجہتی کیلیے اسلام آباد سپریم کورٹ بلڈنگ میں صبح 11 بجے پہنچیں‌ گے اور کونسل کی کارروائی تک موجود رہیں گے جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے حتمی فیصلے کی روشنی میں ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا تاہم دوسری جانب اسلام آباد میں سابق صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن ضیاء اللہ نیازی نے وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلاء برادری کل کی جانے والی ہڑتال مسترد کی جاتی ہے.

ضیاء اللہ نیازی نے کہاکہ پاکستان کیخلاف کوئی بھی تحریک یا کال دی گئی تو وکلاء مخالفت کریں گے. 2007میں بھی وکلا تحریک میں پیش پیش رہے . کوئی کسی بھی طبقے سے ہو، احتساب سے کوئی بالاتر نہیں. ریفرنس دائر ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل کو فیصلہ کرنا ہے بے شک بری کر دے. کنونشن میں اسلام آباد بار کونسل، بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے شرکت کی. واضح رہے کہ وکلاء کے ایک دھڑے نے کل یوم سیاہ منانے کی اپیل کر رکھی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.